مریم نواز کے پاسپورٹ کی واپسی، فاضل جج کی سماعت سے معذرت پر بینچ تحلیل

اس سےقبل درخواست کی سماعت کرنیوالے3 بینچ ٹوٹ چکے ہیں
<p>فائل فوٹو</p>

فائل فوٹو

پاکستان مسلم لیگ نواز (ن) ( PMLN ) کی رہنما مریم نواز شریف ( Maryam Nawaz Sharif ) کے پاسپورٹ ( Passport ) کی واپسی سے متعلق دائر متفرق درخواست پر سماعت کرنے والے بینچ کے جج جسٹس انوار نے سماعت سے معذرت کرلی۔

جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنیچ نے آج بروز جمعرات 8 ستمبر کو درخواست پر سماعت کرنی تھی۔ دائر درخواست میں مریم نواز شریف کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا تھا کہ میرٹ پر ضمانت منظور ہوئی، چار سال سے پاسپورٹ عدالتی تحویل میں ہے۔ مریم نواز کے خلاف چوہدری شوگر مل کا ریفرنس تاحال دائر نہیں ہوسکا ہے۔

مریم نواز کی جانب سے دائر نئی درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ چار سال تک کسی شہری کے بنیادی حقوق معطل رکھنا خلاف آئین ہے۔

سماعت کا آغاز ہوا تو دو رکنی بینچ میں شامل جسٹس انوار الحق پنوں نے بھی سماعت کرنے سے معذرت کرلی، جس کے بعد فائل دوبارہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو ارسال کردی گئی ہے۔ جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی۔ اس دوران درخواست گزار کے وکیل کا اپنے مؤقف میں کہنا تھا کہ چوہدری شوگر مل کا ریفرنس ابھی دائر نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ مریم نواز کو اگست 2019 میں چوہدری شوگر ملز کیس میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا، جب وہ جیل میں اپنے والد اور پارٹی قائد نواز شریف سے ملاقات کر رہی تھیں۔ وہ 48 دن اس کیس میں نیب کی حراست میں رہیں جس کے بعد انہیں جیل بھیج دیا گیا۔

بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے انہیں ضمانت بعد از گرفتاری میں رہا کیا تاہم انہوں نے عدالتی حکم کے مطابق سات کروڑ روپے نقد اور اپنا پاسپورٹ ڈپٹی رجسٹرار کے پاس رکھوا دیا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مریم نواز کی جانب سے پاسپورٹ واپس لینے کی درخواست اس سے پہلے رواں سال اپریل کے مہینے میں اس وقت دائر کی گئی تھی جب مسلم لیگ ن اور اتحادیوں نے حکومت سنبھالی تھی۔ تاہم اس وقت ایک ایسی صورت حال پیدا ہوئی جس میں تین مرتبہ مختلف ججز نے ان کا کیس سننے سے معذوری ظاہر کی۔

پہلا بینچ جسٹس انوار الحق اور جسٹس سید شہباز علی رضوی پر مشتمل تھا۔ اس بنیچ میں شامل جسٹس سید شہباز علی رضوی نے یہ کیس سننے سے معذرت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ اس درخواست کو وہی بینچ سُنے جس نے پہلے ضمانت کی درخواست سنی تھی، جب کہ فائل واپس چیف جسٹس امیر بھٹی کو بھیج دی گئی تھی۔

چیف جسٹس نے کیس دوبارہ ایک نئے دو رکنی بنیچ کو ارسال کیا تھا جو کہ جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل تھا مگر جیسے ہی کیس کی سماعت شروع ہوئی تو بینچ کے سربراہ جسٹس علی باقر نے یہ ریمارکس دیے کہ ان کے ساتھی جج یہ کیس سننا نہیں چاہتے اس لیے یہ فائل واپس چیف جسٹس صاحب کو جا رہی ہے۔

تیسری مرتبہ اس درخواست کی سماعت کے لیے نیا بینچ تشکیل دیا گیا جس کی سربراہی جسٹس علی باقر نجفی نے کی، جب کہ ان کے ساتھ جسٹس اسجد گھرال شامل تھے۔ تاہم کیس کی سماعت شروع ہوتے ہی جسٹس اسجد گھرال نے اپنے آپ کو اس کیس سے الگ کر لیا۔

تین ججوں کے انکار اور تین بینچ ٹوٹنے کے بعد مریم نواز نے لاہور ہائیکورٹ سے اپنی درخواست کی واپس لے لی تھی۔ اب انہوں نے چار مہینے گزرنے کے بعد دوبارہ درخواست دائر کی ہے جس کو جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس انوار الحق پنوں پر مشتمل بینچ آج بروز جمعرات 8 ستمبر کو سنے گا۔

تبولا

Tabool ads will show in this div

تبولا

Tabool ads will show in this div