وزیراعلیٰ سندھ کاگاؤں سیلاب میں ڈوب گیا، سیہون بچانے کیلئے منچھر جھیل میں کٹ دیدیاگیا

اس کٹ سے5یوسیز بری طرح متاثرہوں گی،وزیراطلاعات سندھ
<p>بشکریہ اے ایف پی</p>

بشکریہ اے ایف پی

منچھر جھيل ميں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوگئی ہے، جس کے بعد حفاظتی بند کسی بھی وقت ٹوٹنے کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔ وزيراعلیٰ سندھ کا آبائی گاؤں بجارا بھی پانی میں ڈوب گیا، جب کہ سیہون بھی خطرے میں پڑ گیا ہے،جہاں شہر کو بچانے کیلئے منچھر جھیل میں کٹ دے دیا گیا ہے۔ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ اس کٹ سے 5 یوسیز بری طرح متاثر ہوں گی۔

پاکستان کی سب سے بڑی جھیل منچھرجھیل میں سطح سیلاب کے پانی سے خطرناک حد تک بلند ہوگئی ہے اور حفاظتی بند کسی بھی وقت ٹوٹنے کا خطرہ ہے جب کہ ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

انتظامیہ نےعلاقہ خالی کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔ سیہون میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا آبائی گاؤں میں پانی میں ڈوب گیا ہے۔ جس کے بعد سیہون کو سیلاب سے بچانے کے لئے منچھر جھیل میں کٹ لگا دیا گیا۔ آرڈی چودہ کے مقام پر کٹ لگایا گیا ہے۔

ذرائع محکمہ آبپاشی کا کہنا ہے کہ دادو اور دیگر شہروں کو بھی نقصان سے بچا لیا ہے۔ تین یونین کؤنسلر کے درجنوں دیہات رات گئے خالی کرالیے گیے تھے۔

سیلاب متاثرین کا کہنا ہے کہ گاؤں بجارا میں اب تک امداد نہیں پہنچی۔ زمینی حقائق کی بات کی جائے تو متاثرين کے پاس نہ راشن ہے اور نہ رہنے کے ليے ٹينٹ ہیں۔ علاقے میں چاروں طرف پانی، مگر بجارا واسی گھر چھوڑنے کو تیار نہیں۔ کشتی کی مدد سے سما کی ٹیم جب بجارا گاؤں پہنچی تو ہر طرف تباہی تھی۔ گھر برباد تو مویشی ہلاک تھے۔ جس گاؤں کو سیلابی پانی نے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے وہاں امداد کا ایک دانہ تک نہیں پہنچایا جاسکا۔ مقامی رہائشی شاہنواز کی سات سال کی بیٹی سیلاب کی نذر ہوگئی۔

ڈپٹی کمشنر کا کہناتھا کہ منچھر جھیل کی صورت حال انتہائی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے،آر ڈی 54 سے آر ڈی 58 تک منچھر جھیل کے بندپر دباؤ ہے،عوام سے انخلا اور حفاظتی اقدامات کی اپیل ہے۔ ڈپٹی کمشنر جامشورو فریدالدین مصطفی نے کہاکہ یونین کونسل واہڑ، یونین کونسل بوبک، یونین کونسل جعفرآباد، یونین کونسل چنا، یونین کونسل آراضی کی عوام کوعلاقہ خالی کرنے کی اپیل ہے،ان کا کہناتھا کہ منچھر جھیل کا بند کسی بھی وقت ٹوٹنے کا خدشہ ہے، اس لئے عوام سے انخلا کی اپیل ہے۔

جامشورو میں یوسی چنا، یوسی بوبک، یوسی واہڑ اور یوسی جعفرآباد 60 فیصد خالی کرالیے گئے ہیں، جب کہ 40 فیصد آبادی نقل مکانی میں مصروف ہے۔

دادو

دریائے سندھ میں سیلاب سے متاثرہ افراد نے سڑک کنارے ڈیرے ڈال لیے۔ دادو کا یوسف نائچ گوٹھ مکمل طور پر ڈوبا ہوا ہے, جہاں کے مکین نقل مکانی کرکے اپنے مویشیوں کے ساتھ سڑک کنارے موجود ہیں۔

مٹیاری

مٹیاری کےعلاقے سعیدآباد بھٹ شاہ میں قومی شاہراہ پرکیمپسں تو لگادیئے گئے لیکن سیلاب متاثرین کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہیں۔ ٹریفک کے باعث خواتین اور بچے خوفزدہ ہیں۔ سیلاب سے متاثر ہزاروں کی تعداد میں افراد قومی شاہراہ پر قائم کیمپسں میں موجود ہیں۔ جس میں بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔

سکھر میں بیماریاں

سکھرمیں بارش کی تباہ کاریوں کے بعد تمام علاقوں میں گیسٹرو ، ملیریا، ڈائریا سمیت مختلف بیماریاں پھوٹ پڑی ہیں۔ سکھر میونسپل کارپوریشن کی جانب سے شہر میں میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا ہے، جہاں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ڈاکٹر انعم شیخ کے مطابق ان کیمپس میں سیلاب زدگان کا علاج مفت کیا جارہا ہے، گیسٹرو، ڈائریا، ملیریا اور جلد کی بیماریوں سے متاثرین کو نقصان پہنچا ہے۔

نارروال

نارووال میں نالہ ڈیک اور دریائے راوی کے قریب آباد دیہاتوں میں ہیضے کی وبا شدت اختیار کرگئی ہے، جہاں ایک روز میں تیس سے زائد مریض سرکاری اسپتال میں داخل کيے گئے ہیں۔

ٹنڈو الہٰ یار

ٹنڈوالہ یار کے دیہی علاقے ميں سیلاب سے متاثرہ گھروں میں ویرانی چھائی ہوئی ہے۔ متاثرین سامان اٹھائے خشکی کی تلاش میں ہیں۔ سیلاب زدگان کا کہنا ہے کہ کھانا پانی کچھ بھی نہیں ملا۔ بلکہ لوگ بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

غذر

گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں سیلاب متاثرین کی مدد میں حکومت کے ساتھ نجی فلاحی ادارے بھی پیش پیش ہیں۔ وزیراعظم کے ہدایت پر متاثرین میں چیکس تقسیم کی گئی۔

تونسہ شریف

تونسہ شریف میں ریسکیو کی امدادی ٹیموں نے دریا میں پھنسے چھبيس افراد کو بچا لیا- حادثے کا شکار ہونے والی کشتی کا انجن جل جانے سے تمام افراد دریائے سندھ کے گہرے پانی میں پھنس گئے تھے۔ متاثرہ افراد بیٹ اشرف پر امدادی سرگرمیوں میں مصروف تھی کہ اچانک کشتی کے انجن میں آگ لگ گئی تھی۔ کشتی پر سوار افراد محصور لوگوں تک کھانا اور راشن پہنچانے گئے تھے۔

نوشہرہ

نوشہرہ میں جہاں سیلاب سے متعدد سرکاری املاک تباہ ہوئی ہيں وہيں، پریس کلب بھی سیلاب کی نذر ہوگیا۔ فرنیچر ، کمپیوٹر اور دیگر سامان سیلاب میں بہہ گیا، جب کہ کسی حکومتی نمائندے نے پریس کلب کا دورہ تک نہیں کیا۔

گڈو بیراج

گزشتہ روز فلڈ وارننگ سیل نے بتایا تھا کہ نوشہرہ میں تباہی مچانے والے دریائے کابل کی تیزی ختم ہوچکی ہے، اور اس میں پانی کی سطح بھی دوبارہ معمول پر آگئی ہے، جس کے بعد اب ایک اور خوش آئند خبر ہے کہ گدو بیراج پر بھی پانی کی سطح گرگئی ہے، اور سیلاب کا خطرہ ٹل گیا ہے۔

کابل اورسندھ کا 6 لاکھ کیوسک کا مشترکہ ریلا تونسہ بیراج سے ہوتا ہوا گدو بيراج کی جانب آیا تھا، جس کے بعد گدو بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب کی پیش گوئی کی گئی تھی اور کہا جارہا تھا کہ یہ سیلاب 8 روز تک جاری رہے گا۔ آبی ماہرین کے مطابق اس وقت گدو بیراج پر پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 85 ہزار کیوسک رہ گیا ہے، اور اونچے سے درمیانے درجے کے سیلاب کی کیٹگری میں آگیا۔

فلڈ وارننگ سینٹرکے مطابق سکھر بیراج پر بھی پانی کی سطح گرنا شروع ہوگئی ہے۔ اور یہاں پانی کا بہاؤ 5 لاکھ 45 ہزار کیوسک پر آ گیا، اور آئندہ 24 گھنٹوں میں مزید کمی کا امکان ہے۔ دوسری جانب فلڈ وارننگ سینٹر نے بتایا ہے کہ کوٹری بیراج پر 12 سال بعد 5 لاکھ 86 ہزارکیوسک کا بڑاریلا پہنچ گیا ہے، اور پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈینیشن سینٹر

نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈینیشن سینٹر کے تازہ اعداد وشمار کے مطابق ملک کی 3 کروڑ 30 لاکھ 46 ہزار 326 آبادی سیلاب سے متاثر ہے۔

سیلاب اور بارشوں سے ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔ مرنے والوں میں 570 مرد، 259 خواتین اور 453 بچے شامل ہیں۔

مختلف حادثات میں اب تک 12588 افراد زخمی بھی ہوچکے ہیں۔ این ایف آر سی سی کے مطابق سیلاب سے بلوچستان کے 31، سندھ 23، کے پی کے 17 اضلاع متاثر ہوئے، جب کہ گلگت بلتستان 6 اور پنجاب کے 3 اضلاع بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

حیدرآباد روہڑی اور روہڑی ملتان سیکشن بھی بند ہے، کوٹری لکھی شاہ اور لکھی شاہ داد ریلوے ٹریک بھی بند ہوگیا ہے، بلوچستان کے 29 اضلاع میں نقصانات کے تخیمینہ لگانے کیلئے سروے جاری ہے۔

پاکستان

ISPR

NDMA

Monsoon Rain

FLOOD 2022

NFRCC

تبولا

Tabool ads will show in this div

تبولا

Tabool ads will show in this div