لندن سے چوری ہونیوالی قیمتی ‘بینٹلے’ گاڑی کراچی سے برآمد

کسٹمز حکام نے 2 افراد کو گرفتار کرلیا

پاکستان کسٹمز حکام نے لندن سے چوری ہونیوالی کروڑوں روپے مالیت کی لگژری گاڑی ‘بینٹلے وی 8’ کراچی سے برآمد کرکے دو افراد گرفتار کرلیا۔

سپرنٹنڈنٹ پریونٹیو سروس کلیکٹوریٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ میں درج ٹیکس اور ڈیوٹی چوری کے الزام میں 3 معلوم ملزمان اور محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سے تعلق رکھنے والے سہولت کار اور دیگر کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق دوست ملک کی خفیہ ایجنسی کی جانب سے اطلاع ملی تھی کہ معروف گاڑی ساز ادارے بینٹلے ملسانے کے وی 8 (V8) ویرینٹ کی گاڑی جس کا وی اے این (Vehicle identification number) SCBBA63Y7FC001375 ہے لندن سے چوری ہوکر کراچی پہنچی ہے اور اس وقت ڈیفنس کی 10 اسٹریٹ کے مکان نمبر 15 بی میں موجود ہے۔

کسٹم حکام کے مطابق انٹیلی جنس ایجنسی کی بتائی گئی جگہ کی نگرانی کی گئی تو غیر ملکی لگژری گاڑی وہیں موجود پائی گئی۔

کسٹم ایکٹ 1968ء کے تحت متعلقہ حکام نے جوڈیشل میجسٹریٹ سے سرچ وارنٹ حاصل کرنے کے بعد گاڑی کی برآمدگی کیلئے کارروائی کی۔

سپرنٹنڈنٹ پریونٹیو سروس (SPS) صلاح الدین وزیر، سپرنٹنڈنٹ پریونٹیو سروس (SPS) اطہیر جمانی، آئی پی ایس اظہر ملک، لیڈی پریوینٹی آفیسر مہوش خان، پریوینٹیو آفیسر طالب اور دیگر عملے کے ہمراہ گاڑی کی بازیابی کیلئے کارروائی کی۔

کسٹم حکام کی ٹیم مکان کے مالک جمیل شفیع کو سرچ وارنٹ دکھا کر گھر میں داخل ہوئی، دوران تلاشی ٹیم کو کپڑے میں ڈھکی ایک گاڑی ملی، کپڑا ہٹاکر دیکھا گیا تو بینٹلے گاڑی موجود تھی، گاڑی پر 2020ء کی رجسٹریشن نمبر پلیٹ BRS-279 لگی تھی۔

رپورٹ کے مطابق گاڑی کے چیسز نمبر کا معائنہ کیا گیا تو اس بات کا یقینی ہوگیا ہے کہ وہ برطانیہ سے چوری کی گئی گاڑی ہی ہے، تمام تصدیق کے بعد مکان مالک جمیل شفیع سے گاڑی کی رجسٹریشن سے متعلق قانونی دستاویزات مانگی گئیں۔

جمیل شفیع نے متعلقہ حکام کو بتایا کہ اس نے نوید بلوانی نامی شخص سے گاڑی خریدی ہے اور اس سے یہ تحریری معاہدہ کیا گیا تھا کہ وہ نومبر 2022ء تک اس گاڑی کو متعلقہ اداروں سے قانونی طور پر کلیئر کرائیں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ جمیل شفیع کے غیر اطمینان بخش بیان اور قانونی دستاویزات نہ ہونے کی بنیاد پر گاڑی کو تحویل میں لے لیا گیا۔ بعد ازاں گاڑی کو قانونی کارروائی مکمل کرنے کیلئے ہیڈ کوارٹرز منتقل کردیا گیا۔

کسٹم کی ٹیم قانونی کارروائی کو آگے بڑھارہی تھی کہ اسی دوران ایک شخص آیا اور اس نے اپنا تعارف نوید بلوانی کے نام سے کرایا۔

حکام نے نوید بلوانی سے گاڑی کے قانونی دستاویزات طلب کئے جو وہ فراہم نہ کرسکا، دونوں ملزمان گاڑی کی قانونی ملکیت سے متعلق دستاویزات فراہم نہ کرسکے۔ جمیل شفیع نے گاڑی کی خریداری کا ایک معاہدہ دکھایا لیکن اس میں بھی قانونی طور پر سقم تھا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ دوران تفتیش نوید بلوانی نے انکشاف کیا کہ گاڑی کا سودا نوید یامین اور جمیل شفیع کے درمیان ہوا تھا، وہ تو صرف ایک ضامن کی حیثیت سے اس سودے میں مکمل کرا رہا تھا۔ اس کے بدلے اسے کمیشن ملنا تھا۔ نوید یامین ہی نے جمیل شفیع نے نقد اور پے آرڈر کی شکل میں رقوم لیں۔

نوید بلوانی نے مزید بتایا کہ گاڑی کی سندھ کے محکمہ موٹر رجسٹریشن ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سے جانچ پڑتال کرائی گئی تھی، محکمے کی ویب سائیٹ کے مطابق گاڑی محکمہ موٹر رجسٹریشن ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں رجسٹرڈ تھی۔

محکمہ موٹر رجسٹریشن ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں گاڑی کی رجسٹریشن سراسر قانون کے خلاف تھی کیونکہ اس کیلئے وزارت خارجہ کی اجازت اور پاکستان کسٹمز کی جانب سے این او سی (NO OBJECTION CERTIFICATE) کا اجراء اور ٹیکس و ڈیوٹیوں کی ادائیگی کی رسیدیں جمع کارانا لازمی ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گاڑی کی مشکوک رجسٹریشن اس بات کا اشارہ کرتی ہے کہ محکمہ موٹر رجسٹریشن ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کا ہی کوئی اہلکار ان کا سہولت کار ہے۔ دونوں ملزمان کو حراست میں لے کر کسٹمز ہیڈ کوارٹر منتقل کردیا گیا ہے۔

تفتیش اور حقائق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دونوں ملزمان (جمیل شفیع اور نوید بلوانی) گاڑی پر 30 کروڑ 74 لاکھ 27 ہزار 997 روپے کی ڈیوٹیوں اور ٹیکس چوری کے مرتکب پائے گئے ہیں۔

کسٹمز ایکٹ مجریہ 1969 کی شق 2 (ایس) کے مطابق یہ اقدام اسمگلنگ کے زمرے میں آتا ہے، اس لئے جمیل شفیع اور نوید بلوانی کو کسٹمز ایکٹ کی دفعہ 171 کے تحت نوٹس جاری کیا گیا۔

کراچی

لندن

NON COSTUMPAID VEHICLE

Tabool ads will show in this div