ملک بھر میں ساڑھے 6 لاکھ حاملہ خواتین سیلاب متاثرہ علاقوں میں موجود

زندگیاں بچانے کیلئے مؤثر حکومتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے، ماہرین

مون سون بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے دور رس منفی اثرات کا خدشہ ہے، ملک میں سیلاب متاثرین میں ساڑھے 6 لاکھ کے قریب حاملہ خواتین ہیں جبکہ ان میں 70 ہزار سے زائد ایسی ہیں جن کے ہاں بچے کی پیدائش میں صرف ایک ماہ کا وقت ہے۔ ماہر امراض نسواں کا کہنا ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں حاملہ خواتین کو شدید مشکلات کا سامانا ہے، خواتین کی زندگیاں بچانے کیلئے حکومتی سطح پر مؤثر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (یو این ایف پی اے) نے انکشاف کیا کہ پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کم ازکم ساڑھے 6 لاکھ حاملہ خواتین موجود ہیں جن میں سے 73 ہزار ایسی ہیں جن کے ہاں آئندہ ماہ ولادت متوقع ہے اور انہیں صحت کی سہولیات اور مڈوائف کی اشد ضرورت ہوگی۔

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے معروف ماہر امراض نسواں اور نیشنل کمیٹی فار میٹرنل اینڈ نیونیٹل ہیلتھ پاکستان کی رکن پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ احسن پال نے کہا کہ سندھ میں پہلے ہی صحت کی سہولیات ناکافی تھیں، جیسے سندھ میں گھوسٹ اسکولز ہوتے ہیں ایسے ہی گھوسٹ اسپتال بھی ہیں، جہاں عمارتیں تو موجود ہیں لیکن دوائیں ہیں نہ کوئی عملہ۔

ان کا کہنا ہے کہ بچے کی پیدائش ہنگامی حالات اور قدرتی آفات ختم ہونے کا انتظار نہیں کرتیں، حمل اور زچگی کے دوران عورت و بچے کو سب سے زیادہ دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے، اقوام متحدہ کے ادارے کی جانب سے دیا جانیوالا یہ ایک بہت بڑا نمبر ہے اور اگر حاملہ خواتین کیلئے فوری طور پر کوئی قدم نہ اٹھایا گیا تو ماں اور بچے دونوں کی زندگی خطرے سے دوچار ہوسکتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 2010ء میں سیلاب کے دوران ان کی ایسوسی ایشن ایس او جی پی نے متاثرہ علاقوں کیلئے زچگی کٹس تیار کی تھیں اور متاثرہ علاقوں میں کلین سیو ڈیلیوری کٹس حاملہ خواتین کو پہنچائی گئی تھیں، یہ کوئی مشکل کام نہیں، ہم نے ابھی بھی 50 کٹس تیار کی ہیں جو متاثرہ علاقوں کیلئے ایک فلاحی ادارے نے بنوائی ہیں، کوئی اور بھی چاہے تو ہم ان کٹس کی تیاری میں مدد، رہنمائی فراہم کرسکتے ہیں، حکومت حمل کے دوران دی جانیوالی ادویات حاملہ خواتین تک باآسانی پہنچاسکتی ہے۔

ڈاکٹر سعدیہ کا مزید کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں سڑک، گاڑی، کیمپ کہیں بھی محفوظ زچگی کی جاسکتی ہے، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ان علاقوں میں محفوظ ڈیلیوری کیلئے کٹس پہنچائی جائیں، ہونا تو یہ چاہئے کہ ایسی خواتین کو دوسرے شہروں میں منتقل کیا جائے، اگر یہ ممکن نہیں ہے تو وہیں ان سہولیات کا بندوبست کیا جائے تاکہ ماں اور بچے کی زندگیاں بچائی جاسکیں۔

انہوں نے کہا کہ کٹس میں تمام ضروری سامان موجود ہونا چاہئے، ساتھ انہیں اردو اور سندھی ترجمے کے ساتھ ہدایات بھی مہیا کی جائیں اور جو خواتین پڑھی لکھی نہیں انہیں تصویری خاکوں کی صورت میں ہدایات پہنچائی جائیں، کیونکہ اگر زچگی کے وقت ان خواتین کے پاس کوئی دائی، مڈوائف، نرس موجود نہ ہو تو گھر کے افراد ان ہدایات کے مطابق خود محفوظ ڈیلیوری کرسکیں، نارمل ڈیلیوری کے بعد خاتون کو میزوپراسٹل کی 3 گولیاں دینی ہوتی ہیں وہ دے دی جائیں۔

معروف ماہر امراض نسواں کا کہنا ہے کہ ڈیلیوری کے دوران صرف سامان کی فراہمی ہی کافی نہیں، صفائی ستھرائی کا بہت زیادہ خیال رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ زچگی محفوظ ہونی چاہئے، پہلے 6 ماہ کی حاملہ خواتین کو آئرن کی عام گولیاں، فولک ایسڈ، کیلشیم اور وٹامن ڈی کی دوائیں پہنچائی جائیں اور جو این جی اوز ریلیف کا کام کررہی ہیں انہیں بھی چاہئے کہ یہ دوائیں سیلاب متاثرہ حاملہ خواتین تک پہنچائیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں دو وقت کی روٹی مل جانا بھی غنیمت ہے، ایسے میں حاملہ خواتین کو اچھی صحتمند غذا کا مشورہ کیسے دے سکتے ہیں، ہاں البتہ یہ ضرور ہوسکتا ہے کہ فلاحی اداروں اور حکومت کو چاہئے کہ حاملہ خواتین کو نیوٹریشنل سپلیمنٹس دے دیئے جائیں۔

نیشنل کمیٹی فار میٹرنل اینڈ نیونیٹل ہیلتھ پاکستان کی رکن کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں خواتین کو ماہواری کے مسائل بھی ہیں، انہیں اس سے متعلق بھی ضروری چیزیں فراہم کی جائیں۔

یو این ایف پی اے پاکستان کے قائم مقام نمائندے ڈاکٹر بختیار قادروف نے کہا کہ ادارہ اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کہ حاملہ خواتین اور نئی ماؤں کو انتہائی مشکل حالات میں بھی زندگی بچانے والی خدمات ملیں، شراکت داروں کے ساتھ کام کر رہا ہے۔

محکمہ صحت سندھ کی ایک رپورٹ کے مطابق صوبے میں ایک ہزار سے زائد صحت کی سہولیات کو جزوی یا مکمل طور پر نقصان پہنچا جبکہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے متاثرہ اضلاع میں صحت کی 198 سہولیات کو نقصان پہنچا۔

یو این ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سڑکوں اور پلوں کو پہنچنے والے نقصان نے سیلاب متاثرین تک رسائی کو مشکل بنادیا، جن میں لڑکیاں اور خواتین کی صحت کی سہولیات تک رسائی بھی متاثر ہوئی ہے۔

Sindh health minister

FLOOD 2022

Pakistan flood 2022

UNFPA

Tabool ads will show in this div