خيرپور ناتھن شاہ، گاؤں ناگو شاہ اور کوٹ نواب سيلاب میں ڈوب گئے

نوشہرہ کی چھتیس دیہی کونسلز آفت زدہ قرار

سندھ ( Sindh ) میں سیلاب ( Flood 2022 ) متاثرین نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بااثر لوگ اپنے گھر اور فصلیں بچانے کیلئے دوسروں کو ڈبونے لگے ہیں۔

نوشہرو فيروز

نوشہرو فيروز شہر کو ڈوبنے سے بچانے کے ليے شہری خود اپنی مدد آپ کے تحت بائی پاس پر پہرا دينے لگے ہیں، جہاں شہريوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وڈيرے اپنی فصلوں کو بچانے کے ليے پانی شہر کی جانب چھوڑ رہے ہيں۔

بھریاروڈ

بھریاروڈ کے قریب پانی کے تیز بہاؤ سے پکا چانگ روڈ ٹوٹ گیا، جس کے باعث سیلابی ریلے سے گزرنا شہریوں کیلئے دشوار بنا ہوا ہے۔

سیلاب کے باعث بھريا روڈ کا خيرپور اور ضلع نوشہروفيروز کے ديگر شہروں سے رابطہ تيرہويں روز بھی منقطع ہے، جب کہ سڑک دريا بن گئی ہیں جہاں عورتيں اور بچے پانی ميں ڈوبے ہوئے انتظاميہ کی راہ تک رہے ہیں۔

سیلاب کے باعث راستے بحال نہ ہونے پر شہری اپنی مدد آپ کے تحت پيدل گزرنے کیلئے بانس لگا کر راستہ بنا رہے ہیں۔

سانگھڑ

سانگھڑ میں بھی صورت حال مختلف نہیں ، جہاں کوٹ نواب اکبر بگٹی مکمل سیلاب میں ڈوب گيا۔

علاقے میں بارہ روز گزرنے کے باوجود کوئی حکومتی امداد آخری اطلاعات تک بھی نہ پہنچ سکی، کئی کئی فٹ جمع پرانے پانی کے باعث علاقے میں بيمارياں پھيلنے لگی ہیں۔

متاثرین نے حکومت سے سوال کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ کيا ہم اس وطن کے باسی نہيں؟۔ سانگھڑ یوسی کوٹ نواب میں ایک اندازے کے مطابق سترہ گاؤں زیر آب آئے ہیں۔ سانگھڑ میں سڑک کنارے ہزاروں افراد امداد کے منتظر ہیں۔

دادو

دوسری جانب دادو کے علاقے جوہی سے آنے والا ریلا منچھر جھیل میں داخل ہوگیا ہے، جس سے خیرپور ناتھن شاہ سمندر کا منظر پیش کرنے لگا ہے۔

شہر ميں جگہ جگہ کئی فٹ پانی کھڑا ہے۔ شہريوں کا کہنا ہے کہ مکمل تباہی سے بچانے کیلئے منچھر جھيل کا بند توڑا جائے، تاہم اس مطالبے کو پورا کرنے میں منتخب وڈيرے رکاوٹ بن گئے ہیں۔

میہڑ

اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی نے میہڑ کی جانب رخ کرلیا ہے اور پانی کا بہاؤ شہر کی جانب ہے، انڈس ہائی وے ڈوبنے سے مہڑ کا زمینی رابطہ مکمل طور پر سندھ کے دیگر شہروں سے منقطع ہے، میہڑ شہر کو بچانے کے لیے مہڑ رنگ بند کو مضبوط کرنے کا کام جاری ہے۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے جوہی انڈس ہائی وے مکمل طرح ڈوب چکا ہے جبکہ پانی کا دباؤ جوہی شہر کے رنگ بند پر برقرار ہے۔

ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جوہی شہر کا زمینی رابطہ دادو سے منقطع ہے۔

اہل علاقہ نے کہا کہ دادو ضلع میں سیلابی صورتحال شدید خراب ہوتی جارہی ہے، اب تک جوہی، خیرپور ناتھن شاہ اور میہڑ تحصیلیں مکمل طور پر سیلابی پانی میں ڈوبنے کے باعث سیکڑوں لوگ پھنسے ہوئے ہیں جبکہ شہریوں کو اشیائے خورونوش کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

خیرپور ناتھن

بلوچستان ( Balochistan ) سے آنے والے سیلابی ریلے نے لاکھوں کی آبادی والے خیرپور ناتھن شاہ کو مکمل ڈبو دیا۔ سیلابی ریلے نے شہر سمیت چھوٹے بڑے دیہات میں تباہی کے نشان چھوڑ دیئے۔

مٹیاری

مٹیاری کے قريب نیو سعیدآباد میں بارش کے پانی سے سرکاری گودام میں چالیس ہزار سے زائد گندم کی بوریاں خراب ہونے لگیں ہیں۔ سیلابی ریلے میں بھیگنے کی وجہ بوریوں سے تعفن اٹھنے لگا ہے۔

وزيراعلی سندھ سید مراد علی شاہ (Syed Murad Ali Shah ) نے سماء سے گفتگو ميں بتايا کہ سيلاب سے پندرہ سو ارب روپے کا نقصان ہوا ہے، جب کہ تين لاکھ کچےگھرتباہ ہوئے۔

ٹنڈوالہٰ یار میں بھی لوگ گھر چھوڑ کر کيمپوں ميں رہنے پر مجبور ہيں۔ حيدرآباد کے نياز اسٹيديم سے پانی نہ نکالا جاسکا، جہاں ميدان گندے جوہڑ کا منظر پيش کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ مون سون کی غیر معمولی، بد ترین بارشوں، کلاؤڈ برسٹ اور گلیشیئرز پگھلنے کے باعث آنے والے سیلاب سے ملک کا ایک تہائی حصہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے، جب کہ 14 جون سے اب تک 399 بچوں سمیت کم از کم ایک ہزار 191 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

سیلاب سے ہونے والے نقصان کی رپورٹ جاری

وزارت منصوبہ بندی اور ترقی کی جانب سے سیلاب سے ہونے والے نقصان پر رپورٹ جاری کردی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سیلاب سے 13 ارب 57 کروڑ روپے کا نہری نظام تباہ ہوا، سندھ، کے پی، بلوچستان اور قبائلی علاقہ جات میں 710 منصوبوں کو نقصان پہنچا۔ جاری

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کے پی میں ایک ارب اور سندھ میں 8 ارب 42 کروڑ کے نہری نظام کو نقصان پہنچا۔

وزارت منصوبہ بندی کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیلاب سے بلوچستان میں 3 ارب 87 کروڑ کا نظام آبپاشی تباہ ہوا ہے۔ قبائل علاقہ جات میں 6 کروڑ 80 لاکھ ، سندھ میں 355 منصوبے اور کے پی میں 178 منصوبے تباہ ہوئے۔

سیلاب سے 12 لاکھ کے قریب مکانات متاثر بھی ہوئے، جب کہ ساڑھے 7 لاکھ کے قریب جانور ہلاک ہوئے۔ سیلاب کے باعث 243 پل اور 5063 کلومیٹر سڑکیں متاثر ہوئیں۔

نوشہرہ

خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ کی چھتیس دیہی کونسلز کو مقامی انتظامیہ نے آفت زدہ قرار دے دیا ہے، جب کہ کالام کا مانکیال گاؤں پتھروں کے ڈھیرمیں تبدیل ہوگیا۔

حکومت کی جانب سے یکم ستمبر سے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان تو کیا گیا تاہم ادارے کھلنے کے باوجود کئی اسکولوں میں صفائی کا کام جاری ہے۔ ادھر سوات میں سیلاب متاثرین تا حال امداد کے منتظر ہیں، آفت زدہ علاقوں میں پینے کا صاف پانی بھی نہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے دلاسوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔

کالام

کالام میں موجود نمائندہ سما کے مطابق پل اور سڑکیں بہہ جانے سے وادی کالام کے قریب گاؤں سمیت بارہ بستیوں کا زمینی رابطہ شہر سے کٹ گیا۔ دریا کے دوسرے کنارے لوگ مدد کے منتظر ہیں۔ امدادی ہیلی کاپٹروں سے مدد کیلئے محصورین سرخ جھنڈیاں لگا کر علامتی ہیلی پیڈ بنائے بیٹھے ہیں۔

ISPR

Monsoon Rain

Sindh flood

BALOCHISTAN FLOOD

FLOOD 2022

Tabool ads will show in this div