بلوچستان میں پاک فوج کا ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری

مزید 353 افراد کو ریسکیو کرلیا گیا
<p>فائل فوٹو</p>

فائل فوٹو

بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج، ایف سی اور ضلعی انتظامیہ کا ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے۔

پاکستان آرمی اور ایف سی کے جوان بلوچستان کے مختلف علاقوں بشمول کوئٹہ، جعفرآباد، نصیر آباد، سبی، جھل مگسی، خضدار، آواران، نوشکی، قلعہ عبداللہ، چاغی، مستونگ، ڈیرہ بگٹی، موسیٰ خیل، بولان اور صحبت پور میں امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

پاکستان آرمی کے جوان کشتیوں اور ہیلی کاپٹرز کے ذریعے سیلاب زدہ علاقوں میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف سیلاب زدہ علاقوں منجی شوریٰ، ربی اور بیدرپل ، بھاگ، پیر چتھل، کچھی سے 353 افراد کو ریسکیو کر کے ریلیف کیمپس میں منتقل کیا گیا ہے۔

پاکستان آرمی اورایف سی بلوچستان کی جانب سے مختلف علاقوں میں سیلاب متاثرین کے لیے 28 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب زدہ علاقوں میں 7080 افراد کو پکا ہوا کھانا، 2368 افراد کو راشن کے پیکٹس جن میں آٹا ، دالیں، چاول، چینی اور کوکنگ آئل شامل تھا تقسیم کیے گئے۔

پاکستان آرمی اورایف سی بلوچستان کی جانب سے سیلاب زدہ علاقوں میں فری میڈیکل کیمپس قائم کیے گئے ہیں جہاں مریضوں کو مفت طبی امداد اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5142 مریضوں کو مفت طبی امداد اور ادویات فراہم کی گئیں۔

ذرائع آمدورفت کی جلد بحالی میں پاکستان آرمی اور ایف سی بلوچستان سول انتظامیہ کی معاونت کر رہی ہے، چتھر سے ڈیرہ مراد جمالی اور لنڈا پل شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر شاہراؤں اور پلوں پر بھی کام تیزی سے جاری ہیں۔

پاک افواج، ایف سی بلوچستان اور سول انتظامیہ اپنے تمام تر وسائل کوبروئے کار لاتے ہوئے سیلاب متاثرین کی ہر ممکن مدد کر رہے ہیں۔

Pakistan Army

Pakistan flood 2022

Tabool ads will show in this div