ملک میں گوشت اور دودھ کی قلت کا خدشہ

بلوچستان میں سب سے زیادہ 5 لاکھ جانور سیلاب کی نذر ہوئے

ملک میں بڑی تعداد میں جانوروں کی ہلاکت کے بعد گوشت اور ڈیری مصنوعات کی کمی کا خدشہ ہے۔

ملک میں لمپی اسکن بیماری سے چار کروڑ جانور متاثر ہوئے تھے، اور اس بیماری سے مرنے والے جانوروں کی شرح 10 فیصد تھی۔ ہزاروں مویشیوں کی ہلاکت کے بعد اب سیلاب سے بھی 7 لاکھ سے زائد مویشی ہلاک ہوگئے ہیں۔

پاکستان کے مجموعی جی ڈی پی میں لائیو اسٹاک کا حصہ 14 فیصد ہے۔ ڈیری اینڈ کیٹلز فارمنگ ایسوسی ایشی کے مطابق اس وقت پاکستان میں 8 کروڑ سے زائد گائیں بھینسیں ہیں، جن کی مالیت 16000 ارب سے زائد بنتی ہے اور یہ ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں، ان سے روزانہ پاکستان کو 13 کروڑ لیٹر دودھ فراہم ہوتا ہے جس کی مالیت 13 ارب یومیہ اور 4745 ارب سالانہ بنتی ہے۔

یکے بعد دیگرے آفات کے باعث مویشیوں کی شدید کمی ہوچکی ہے، اور ملک میں گوشت اور ڈیری مصنوعات کی کمی کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

این ڈی ایم اے کے اعداد و شمار کے مطابق ہلاک ہونے والے مویشیوں میں بلوچستان میں سب سے زیادہ پانچ لاکھ، پنجاب میں دو لاکھ سے زائد، سندھ میں 15 ہزار اور خیبر پختونخوا میں 1200 سے زائد مویشی سیلاب کی نذر ہوچکے ہیں، اور یہ وہ اعداد وشمار ہیں جو مقامی انتظامیہ نے این ڈیم ایم اے تک پہنچائے۔

جن علاقوں میں سیلابی صورت حال خطرناک ہے وہاں سے اعداد وشمار ابھی پہنچ بھی نہیں پا رہے جس کے باعث یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاک ہونے والے مویشیوں کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

پی ڈی ایم کے مطابق پنجاب میں سب سے زیادہ نقصان راجن پور میں ہوا ہے جہاں دو لاکھ مویشی ہلاک ہوئے، ڈی جی خان میں 4 ہزار100 اور میانوالی میں 331 جانور سیلابی لہروں کی نذر ہوگئے۔

محکمہ لائیو اسٹاک سندھ کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 28 اگست تک مجموعی طور پر سندھ بھر میں بھینس، گائیں، بکریا اور دیگر مویشیوں کی مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 11 ہزار 734 ہے، جس کے نقصانات کا تخمینہ 90 کروڑ روپے سے زائد لگایا گیا ہے۔

جانوروں کی بڑی تعداد سیلاب مہیں بہہ جانے سے منڈیاں بھی ویران ہونے لگی ہیں، اور ماہرین کے مطابق آنے والے وقت میں گوشت اور دودھ کی رسد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے بہتر منصوبہ بندی اور سیلاب سے حفاظت کے نظام کو بہتر بنا کرمسقتبل میں ایسے نقصانات سے بچا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب ڈائریکٹرجنرل لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری احتشام الحق کا دعویٰ ہے کہ سیلاب میں زیادہ تر فصلیں اور زرعی زمین تباہ ہوئی ہے، جس کی وجہ سے پھل فروٹ اور سبزیوں کی کمی ہوسکتی ہے، تاہم جانور سبزیوں سے ٘مختلف ہیں ، سیلاب کے خدشے کے پیش نظر جانور پہلے منتقل کرچکے ہیں، اس لئے دودھ اور گوشت کی کمی نہیں ہوگی۔

FLOOD 2022

Pakistan flood 2022

Tabool ads will show in this div