میٹھے اور کاربونیٹڈ مشروبات کس طرح بچوں میں ذیابیطس پھیلا رہے ہیں؟

پندرہ سال کی عمر کے بچے بھی ذیابیطس میں مبتلا ہورہے ہیں

طبی ماہرین نے کہا ہے کہ میٹھے اور کاربونیٹڈ مشروبات کے استعمال کے نتیجے میں پاکستان میں غیر متعدی امراض کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، یہ مشروبات موٹاپے، دل اور ذیابیطس کی بیماریوں کا دباؤ بڑھا رہے ہیں 15 سال کے بچے بھی ذیابیطس میں مبتلا ہورہے ہیں، ان بیماریوں کی نتیجے میں پاکستان میں یومیہ سیکڑوں اموات اور درجنوں افراد معذور ہورہے ہیں۔

پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) نے ذیابیطس ایسوسی ایشن آف پاکستان اور جامعہ کراچی کے تعاون سے کراچی میں میٹھے مشروبات کے صحت اور معشیت پر ہونیوالے نقصانات اور ان سے بچاؤ کے طریقوں پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔

سیمینار سے گلوبل ہیلتھ ایڈووکیسی انکیوبیٹر کے کنسلٹنٹ منور حسین، ذیابیطس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکریٹری پروفیسر عبدالباسط، ڈیپارٹمنٹ آف فوڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی جامعہ کراچی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر غفران سعید، سندھ فوڈ اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر شاہ زیب شیخ، پناہ کے سیکریٹری جنرل ثناء اللہ گھمن اور پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی، پی سی ایس آئی آر ذمہ کے داران نے خطاب کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر عبدالباسط کا کہنا تھا کہ ایشینز کٹ آف کے مطابق پاکستان میں موٹاپا 75 فیصد ہے، 20 سال سے زائد عمر کی 46 فیصد آبادی ہائپر ٹینسو ہے۔

انہوں نے کہا کہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق 3 کروڑ 30 لاکھ پاکستانی ذیابیطس کا شکار ہیں اور ایک کروڑ افراد ایسے ہیں جو پری ڈائبیٹک ہیں اور ان ایک کروڑ افراد کو ذیابیطس ہونے سے بچایا جاسکتا ہے یعنی 4 کروڑ 30 لاکھ افراد کو کسی بھی وقت ہارٹ اٹیک ہوسکتا ہے، اسی طرح ذیابیطس کے نتیجے میں سالانہ 3 لاکھ سے زیادہ افراد عمر بھر کیلئے معذور ہوجاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چند برس پہلے کراچی میں 8 سال سے 10 سال کی عمر کے بچوں کا سروے کیا گیا تھا اور ان کے فاسٹنگ کے ساتھ بلڈ سیمپلز لئے تھے، ان میں سے 80 فیصد بچے وہ تھے جو بیوریجز پیتے تھے، اس وقت کے ایک سروے کے مطابق پاکستان کے ایک کروڑ بچے موٹاپے کا شکار تھے۔

ڈاکٹر عبدالباسط نے مزید کہا کہ پہلے 35 سال کی عمر سے اوپر ذیابیطس دیکھ رہے تھے، اب 15 سال کی عمر کے بچوں میں ذیابیطس ہے اور یہی صورتحال رہی تو آئندہ 5 سال میں یہ عمر کم ہوکر 10 سال تک پہنچ جائے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ دنیا میں ایک بھی ملک ایسا نہیں جس نے ذیابیطس کی شرح کو کم کیا ہو، ہاں یہ ضرور ہے کچھ ممالک نے اسے موجودہ سطح پر روک دیا ہے لیکن پاکستان میں یہ گراف اوپر ہی جارہا ہے۔

ڈاکٹر عبدالباسط نے کہا کہ ہمیں جمز کو پروموٹ کرنا ہوگا، ہمیں بازاروں شادی ہالز کے اوقات کار بدلنے ہوں گے، شادی ہالز رات 8 بجے اور ٹرانسپورٹ کو رات 9 بجے بند کرنا ہوگا، صبح 6 بجے کاروبار زندگی کیوں شروع نہیں ہوسکتا ہے، ہمیں صحتمند طرز زندگی اپنا کر ہی غیرمتعدی امراض سے چھٹکارہ حاصل کرسکتے ہیں۔

منور حسین کا کہنا ہے کہ دنیا نے میٹھے مشروبات کے استعمال کو کم کرنے اور ان کے نقصانات سے اپنے لوگوں کو بچانے کیلئے کچھ بہت مؤثر اقدامات کئے ہیں، ہمیں بھی ان اقدامات سے فائدہ اٹھانا چاہئے، دنیا نے ان مشروبات کے نقصانات سے آگاہی کے ساتھ ساتھ ان پر ٹیکس میں اضافہ کیا ہے، جو سب سے پہلا اور سب سے زیادہ مؤثر ہتھیار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے ساتھ ساتھ ان مشروبات کی مارکیٹنگ پر پابندی، فرنٹ پیک لیبلنگ، وارننگ سائنز اور اسکول فوڈ پالیسی شامل ہے، جب سوڈا ڈرنکس پر 50 فیصد ٹیکس اور انرجی ڈرنکس پر 100 فیصد ٹیکس بڑھایا تو وہاں سوڈا ڈرنکس کے استعمال میں 41 فیصد اور انرجی ڈرنکس کے استعمال میں 58 فیصد کمی ہوئی، قطر، چلی، مالدیپ اور بہت سے دوسرے ممالک نے مناسب پالیسی پر عمل کر کے اپنے ملکوں میں بیماریوں کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ ناصرف بیماریوں کے دباؤ کو کم کیا بلکہ ریونیو میں بھی اضافہ کیا۔

منور حسین کا کہنا تھا کہ مارکیٹنگ کمپنیاں بچوں کو ٹارگٹ کرتی ہیں کیونکہ بچے سافٹ ٹارگٹس ہوتے ہیں، اس وقت دنیا بھر کے 223 ملین بچے موٹاپے کا شکار ہیں، ہمیں پاکستان میں بھی اسکول فوڈ پالیسی بنانی ہوگی، اسکولز کے اندر جنک فوڈ اور کاربونیٹڈ ڈرنکس کے ساتھ ساتھ مارکیٹنگ کی بھی پابندی عائد کرنا ہوگی، کچھ ایسے ممالک بھی ہیں جو ان ڈرنکس کو تیار کرکے دنیا بھر میں بیچ رہے ہیں لیکن اپنے ملک میں وارننگ سائنز کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔

ثناء اللہ گھمن نے کہا کہ گزشتہ وفاقی حکومت کے دور میں ہیلتھ کنٹری بیوشن بل اسمبلی میں پیش ہونا تھا، جس میں میٹھے مشروبات پر ایک روپے اور سگریٹ کے پیکٹ پر 10 روپے ٹیکس لگانا تھا اور اس کے نتیجے میں سالانہ 55 ارب روپے کا ریوینو جمع ہوتا جو غیر متعدی امراض پر خرچ کیا جانا تھا لیکن بل اسمبلی میں پیش ہی نہیں ہوسکا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں میٹھے مشروبات کے نتیجے میں غیر متعدی امراض کا دباؤ بڑھتا جارہا ہے، بدقسمتی سے لوگ موٹاپے کو بیماری ہی نہیں سمجھتے ہیں، پاکستان نیشنل ہارٹ ایسو سی ایشن پچھلے 40 سال سے لوگوں کو دل اور اس سے متعلقہ بیماریوں سے بچانے کی آگاہی دے رہی ہے اور وہ وجوہات جو بیماریاں پیدا کرنے کی وجہ بن رہی ہیں، پناہ حکومت کے ساتھ مل کر ان کی روک تھام کیلئے قوانین بنوا رہی ہے تاکہ اپنے ہم وطنوں کو اور خاص طور پر بچوں کو صحتمند زندگی دی جاسکے کیونکہ صحتمند قوم ہی کسی ملک کی مضبوطی کی ضامن ہوتی ہے۔

جامعہ کراچی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سید محمد غفران سعید نے کہا کہ جس تیزی سے ذیابیطس، موٹاپے، دل اور دوسری غیر متعدی بیماریوں میں اضافہ ہورہا ہے اس کی ایک بڑی وجہ الٹرا پراسیسڈ فوڈز اور میٹھے مشروبات کا استعمال ہے، اگر ہم اس خطرناک صورتحال سے باہر آنا چاہتے ہیں تو حکومت کو ایسی پالیسیز بنانا پڑیں گی جس سے ان مضر صحت اشیاء کے استعمال میں کمی آئے اور خصوصی طور پر ان چیزوں کو بچوں کی پہنچ سے دور کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 34 فیصد مرد اور 64 فیصد خواتین کا وزن عمر کے حساب سے زیادہ ہے یا وہ موٹاپے کا شکار ہیں، 100 ملی لیٹر میٹھے مشروبات میں تقریبا 13 گرام چینی ہوتی ہے، روزانہ ایک گلاس سوڈا ڈرنک پینے والے بڑوں میں 27 فیصد اور بچوں میں 55 فیصد موٹاپے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

غفران سعید نے بتایا کہ 3 لاکھ سے زیادہ لوگوں پر ہونیوالی 11 اسٹڈیز کے ایک میٹا اینالیسز کے مطابق میٹھے مشروبات پینے والے افراد میں ٹائپ ٹو ڈائیبٹیز ہونے کے واضح امکانات پائے گئے ہیں، اسی طرح 2 لاکھ 80 ہزار افراد پر ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق زیادہ میٹھے مشروبات پینے والے افراد میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کے 30 فیصد امکانات ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک مشترکہ تحقیق سے پتہ چلا ہے دو یا اس سے زیادہ سافٹ ڈرنکس پینے والوں میں کینسر کی وجہ سے موت کا خطرہ 17 فیصد زیادہ ہوتا ہے جبکہ روزانہ ایک سے دو گلاس سافٹ ڈرنکس پینے والے افراد میں ڈائیجیسٹو ڈیزیز کی وجہ سے موت کے امکانات 59 فیصد ہیں۔

ڈاکٹر غفران سعید نے کہا کہ ذیابیطس کے علاج پر سالانہ 2 ہزار 640 ملین یو ایس ڈالر اور موٹاپے پر 428 بلین پاکستانی روپے خرچ ہو رہے ہیں، میٹھے مشروبات کے استعمال کی وجہ سے پاکستان میں 3 کروڑ 30 لاکھ افراد ذیابیطس کا شکار ہیں یعنی ہر چوتھے فرد کو ذیابطیس کا مرض لاحق ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2016ء میں پاکستان میں 8 لاکھ افراد غیر متعدی بیماریوں کی وجہ سے انتقال کرگئے تھے اور انٹرنیشنل ڈائیبٹیز فیڈریشن کے مطابق 2021ء میں 4 لاکھ افراد ذیابیطس اور اس سے ہونے والی پیچیدگیوں کی وجہ سے انتقال کرگئے یعنی پاکستان میں یومیہ ذیابیطس اور اس کی پیچیدگیوں کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد 1100 ہے۔

diabetes

sugar

obesity

HEALTH

Pakistan flood 2022

Tabool ads will show in this div