پچاس لاکھ سیلاب متاثرین وبائی امراض کا شکار ہوسکتے ہیں، ماہرین

ایک بہت بڑا انسانی المیہ جنم لے رہا ہے، ماہرین صحت نے خبردار کردیا

طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 3 ماہ کے دوران 50 لاکھ سیلاب متاثرین وبائی امراض کا شکار ہوسکتے ہیں، سیلاب سے متاثرہ آبادی کا 5 فیصد مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوسکتا ہے۔

الخدمت فاؤنڈیشن اور فارمیوو نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ادویات کی فراہمی کیلئے فنڈ قائم کردیا ہے، مقامی فارما کمپنی نے ابتدائی طور پر 5 ملین (پچاس لاکھ) روپے ادویات کیلئے جمع کروا دیئے ہیں۔

فلاحی تنظیم نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں صرف وہی ادویات بھیجی جائیں جن کی وہاں ضرورت ہے، بہت سے مخیر افراد معلومات کے بغیر ایسی دوائیں بھیج رہے ہیں جو سیلاب متاثرین کے کسی کام کی نہیں۔

فلاحی تنظیم نے فارمیوو کے ساتھ مل کر سیلاب متاثرین کیلئے ضروری ادویات کی فہرست جاری کردی ہے، فہرست کے مطابق اینٹی بایوٹک، اسہال، ہیضے اور جلدی امراض سمیت ضروری ادویات شامل ہیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں میڈیکل سپلائز کی اشد ضرورت ہے، اس حوالے سے پاکستان سوسائٹی آف ہیلتھ سسٹم فارماسسٹس نے ریلیف آپریشن سے متعلق گائیڈ لائن بھی جاری کردی ہے۔

ماہرین کے مطابق لگ بھگ 50 لاکھ سیلاب متاثرین مختلف وبائی امراض کا شکار ہوسکتے ہیں، جن کیلئے ادویات کی ضرورت ہوگی، ان میں سب سے بڑی تعداد خواتین، بچوں اور بزرگوں کی ہوگی جو پانی سے ہونے والی بیماریوں اسہال، ہیضہ، الرجی، بخار، جلدی امراض اور پیٹ کی بیماریوں کا شکار ہوسکتے ہیں، جن کیلئے اس وقت ایک اندازے کے مطابق 50 کروڑ سے زائد مالیت کی ادویات کی ضرورت ہیں۔

ماہرین صحت کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں وہ ادویات عطیہ کی جارہی ہیں جن کی ضرورت نہیں اور وہ ضائع ہورہی ہیں۔

گزشتہ دنوں فلاحی تنظیم الخدمت فاؤنڈیشن اور مقامی فارماسیوٹیکل کمپنی فارمیوو کے مابین معاہدہ طے پایا جس کے مطابق ابتدائی طور پر ادویات کیلئے ایک فنڈ قائم کیا گیا اور فارما کمپنی کی جانب سے 50 لاکھ روپے کی ادویات فراہم کی گئیں جو پہلے فیز میں سندھ اور بلوچستان کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں بھیجی جائیں گی۔

 .  .  .

معاہدے کے مطابق مزید مقامی ادویہ ساز کمپنیوں سے رابطہ کیا جائے گا اور 50 کروڑ روپے سے زائد کی ادویات جمع کرکے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں استعمال کی جائیں گی۔

پاکستان سوسائٹی آف ہیلتھ سسٹم فارماسسٹس کی جاری سفارشات کے مطابق سیلاب متاثرہ علاقوں میں اینٹی بایوٹکس، بخار کم کرنیوالی ادویات، اینٹی ملیریل ادویات، جلدی امراض کے علاج کی ادویات، الٹی موشن (دست و اسہال) روکنے والی ادویات، نزلہ کھانسی زکام کی ادویات، سانپ اور کتوں کے کاٹنے کی ویکسین، ٹائیفائیڈ اور ہیضے سے بچاؤ کی ویکسین، خسرہ اور ٹیٹنس سے بچاؤ کی ویکسین، او آر ایس اور جان بچانے والی ضروری ادویات شامل ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق اس وقت ایک بہت بڑا انسانی المیہ جنم لے رہا ہے، حکومت اکیلے اس سے نبردآزما نہیں ہوسکتی اور نہ ہی ان کی بحالی کا کام کرسکتی ہے، تمام آرگنائزیشنز اور این جی اوز سے رابطہ کررہے ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں بنیادی کلینیکل سہولیات بھی فراہم کریں۔

سندھ

بلوچستان

HEALTH

Rain and Flood

FLOOD 2022

Tabool ads will show in this div