حکومت نے 6 ممالک سے پی ٹی آئی کو ملنے والے فنڈز کی تفصیلات مانگ لیں

ايف آئی اے کی درخواست پروزارت خارجہ نے قانونی تعاون کی درخواست کی

حکومت پاکستان نے 6 ممالک سے تحريک انصاف کو ملنے والے عطيات اور فنڈز کی تفصيلات مانگ لیں۔

ايف آئی اے کی درخواست پروزارت خارجہ کی جانب سے آسٹريليا،کينيڈا،سوئٹزرلينڈ، متحدہ عرب امارات ،امریکا اور سنگاپور سے تفصیلات مانگی گئيں۔

وزارت خارجہ کی جانب سے مذکورہ ممالک کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ آپ کے شہریوں سے فنڈز اکٹھے کیے گئے۔ فنڈز کی تفصیلات فراہم جائے۔

فارن فنڈنگ کیس کب کیا ہوا

2 اگست کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے خلاف 7 سال 8 ماہ سے زائد وقت زیر سماعت رہنے والے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنایا گیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنما اور کئی اہم پارٹی عہدوں پر فائز رہنے والے اکبر ایس بابر نے اپنی ہی جماعت کے خلاف نومبر 2014 میں الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی۔

درخواست میں موقف

اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے روبرو دائر درخواست میں موقف اختیار کیا کہ تحریکِ انصاف کو بیرونی ممالک سے بھاری رقوم حاصل ہوئیں لیکن یہ رقم غیرقانونی ذرائع سے آئی ہے۔ اس کے اصل ذرائع کا کسی کو معلوم نہیں۔

پاکستان تحریک انصاف نے سماعت رکوانے کے لیے ہر متعلقہ پلیٹ فارم سے رجوع کیا۔ یہاں تک کہ سماعت کے دوران کم از کم 8 وکیل تبدیل بھی ہوئے۔

اگست 2017 میں الیکشن کمیشن نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو اکاؤنٹس کی تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیا۔

26 میں سے 18 اکاؤنٹس بے نامی

الیکشن کمیشن کے روبرو پاکستان تحریکِ انصاف کے مختلف کمرشل بینکوں میں 26 بینکوں کی تفصیلات پیش کی گئیں جن میں سے صرف 8 ظاہر شدہ تھے۔

26 میں سے 18 اکاؤنٹس بے نامی تھے جن میں بیرون ملک سے آنے والی رقوم جمع کی جاتی رہی لیکن یہ فنڈنگ کہاں خرچ ہوئی، اس بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

الیکشن کمیشن نے تحقیقات کیلئے مارچ 2018 میں اسکروٹنی کمیٹی قائم کی جس نے 96 مختلف اجلاس منعقد کئے اور اگست 2020 میں اپنی رپورٹ الیکشن کمیشن کے روبرو جمع کرائی لیکن الیکشن کمیشن نے اسے مسترد کردیا جس کے بعد رواں برس جنوری میں حتمی رپورٹ جمع کروائی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ

اپریل 2022 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے فارن فنڈنگ کیس کا فیسلہ 30 روز میں سنانے کا حکم دیا تھا۔ تحریک انصاف نے اس فیسلے کے خلاف نظر ثانی اپیل دائر کی، عدالت عالیہ نے فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا کہ الیکشن کمیشن پر شک کی گنجائش نہیں کہ تمام جماعتوں سے ایک سا برتاؤ ہوگا، توقع ہے کہ الیکشن کمیشن تمام جماعتوں کے کیسز مناسب وقت میں نمٹائے گا۔

پی ٹی آئی کی مخالف جماعتوں کا مطالبہ

مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) کی جانب سے بارہا الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا جاتا رہا کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ جلد از جلد سنایا جائے۔

حکومتی مطالبات

کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد حکموتی اتحاد میں شامل جماعتیں الیکشن کمیشن سے فیصلہ سنسنے کا بارہا مطالبہ کرتی رہیں لیکن فنانشل ٹائمز کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد ان کی جانب سے مطالبات میں تیزی آگئی۔

fia

PTI

Prohibited Party Funding Case

تبولا

Tabool ads will show in this div

تبولا

Tabool ads will show in this div