شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد

عدالت نے شہباز گل کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا

سیشن کورٹ نے تحریک انصاف کے رہنما شہبازگل کے جسمانی ریمانڈ کی پولیس کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کے خلاف اداروں کیخلاف بغاوت پر اکسانے کے مقدمے پر سماعت ہوئی، جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان نے کیس کی سماعت کی۔

پروسکیوٹر راجا رضوان عباسی نے عدالت میں کے روبرو مؤقف پیش کیا کہ شہبازگل کے ریمانڈ میں فونز، 4 یو ایس بیز برآمد اور کمرے کی تلاشی لی، ابھی بھی ہمیں کچھ سوالات کے جوابات درکار ہیںْ

راجا رضوان عباسی نے استدعا کرتے ہوئے مؤقف پیش کیا کہ مرکزی فون جو ملزم استعمال کرتا تھا اسکی برآمدگی مقصود ہے، پولی گرافک ٹیسٹ لاہور سے کرانا ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا پچھلے ریمانڈ میں پولی گرافک ٹیسٹ کی استدعا نہیں تھی۔ جس پر پروسیکیوٹر راجا رضوان عباسی نے جواب دیا کہ پچھلے ریمانڈ میں استدعا نہیں تھی جو معطل ہوا اس میں تھی۔

پروسیکیوٹر نے عدالت نے ملزم کے ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے مؤقف دیا کہ ہم نے عدالت سے صرف 7 دن کے ریمانڈ کی استدعا کی ہے، ہمیں ملزم کا 14 دن تک کا ریمانڈ مل سکتا ہے، ہم عدالت سے کوئی غیر قانونی درخواست نہیں کررہے۔

پروسیکیوٹر نے اپنے مؤقف میں یہ بھی بتایا کہ ملزم کے 2 دنوں کے ریمانڈ میں پیش رفت ہوئی، ایک مقدمہ بھی درج ہوا، ہم نے خود اسلحہ کے مقدمے میں ملزم کو جیل بھیجنے کی استدعا کی، یہ تفتیشی افسر نے دیکھنا ہے کہ تفتیش مکمل ہوئی یا نہیں، 4 دنوں کی پروگریس موجود ہے تفتیش مکمل نہیں ہوسکی۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اس سے پہلے میڈم زیبا چوہدری کی عدالت نے 48 گھنٹے دئیے تھے، میں نے بھی اتنا ہی وقت دیا، کیا میڈم نے میرے لیے راستہ چھوڑا کہ مزید ریمانڈ دوں۔ جس پر پروسیکیوٹر نے ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کا حکم نامہ پڑھنا شروع کردیا۔

شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری نے عدالت میں مؤقف پیش کیا کہ ہم نے تشدد کو ایک ذریعہ بنا لیا ہے، صحافی، وکیل سمیت کوئی بھی پولیس کے ہتھے چڑھے تشدد ہوتا ہے، شہباز گل پروفیسر ہے، 4 دن میں پولیس نے صفر تفتیش کی، ہائیکورٹ نے اخراج مقدمہ کی درخواست پر نوٹس کررکھا ہے۔

شہباز گل کے وکیل نے الزام عائد کیا کہ ان کے مؤکل کو برہنہ اور الٹا کر کے تشدد کیا گیا۔

شہباز گل کے وکیل نے پولیس کو جسمانی ریمانڈ دینے کی مخالفت کرتے ہوئے دلائل دیئے کہ پولیس نے میڈیا کے تعاون سے کمرے پر چھاپہ مارا، جسمانی ریمانڈ کی ہر استدعا میں موبائل فون برآمدگی کی بات کی، پولیس 4 موبائل فون تو برآمد کر چکی، اب کون سے والا فون چاہئے۔

فیصل چوہدری نے کہا کہ 16 دن ہو چکے پولیس نے سوائے تشدد کے کچھ بھی نہیں کیا، پروسکیوٹر نے خود تسلیم کیا کہ جیل میں تفتیش ہوسکتی ہے۔

عدالت نے پروسیکیوٹر کو ہدایت جاری کہ آپ دلائل مکمل کر لیں، ہائی کورٹ نے تشدد کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے، انکوائری افسر نے رپورٹ جمع کرانی ہے۔

پروسیکیوٹر نے جواب دیا کہ شہباز گل نے تشدد کا الزام لگایا اور میڈیا پر آیا، ملزم کی حراست ضروری ہے، پولی گرافک ٹیسٹ بھی کرانا ہے، ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا مگر ابھی تفتیش مکمل نہیں ہوئی۔

سماعت کے دوران شہباز گل کے وکلاء اور پروسیکیوٹر کے درمیان نوک جھونک ہوئی تو پروسیکیوٹر نے کہا کہ وکلاء صفائی کا یہی رویہ رہا تو دلائل نہیں دے سکوں گا۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی پولیس استدعا پر فیصلہ محفوظ کیا اور کچھ دیر بعد سماعت شروع کی، اور عدالت نے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی۔ عدالت نے شہباز گل کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

Shehbaz Gill

Shehbaz Gill case

Tabool ads will show in this div