سندھ کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں ادویات کا شدید بحران

مریضوں کو باہر سے مہنگی ادویات خریدنی پڑ رہی ہیں

سندھ کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں ادویات کا بحران شدت اختیار کرگیا ہے اور اسپتال آنے والے مریضوں کو ادویات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ حکومت سندھ کی ادویات کے انتخاب کیلئے بنائی گئی کمیٹی کے چیئرمین نے سربراہی سے معذرت کرلی، جس کے بعد عملاً کمیٹی غیر فعال ہوچکی ہے۔ اسپتال سربراہان کا کہنا ہے کہ لوکل پرچیز کی مد میں اتنے پیسے نہیں ہیں کہ سب مریضوں کو دوائیں دے سکیں۔ مریضوں نے شکوہ کیا کہ سرکاری اسپتالوں سے ایک آسرا دواؤں کا ہی ہوتا ہے جو یہاں ملتی نہیں، مہنگائی کے سبب دوائیں خریدنے کی اب سکت نہیں۔

حکومت سندھ کی جانب سے ادویات کے انتخاب کیلئے بنائی گئی سینٹرل پروکیورمنٹ کمیٹی عملاً غیر فعال ہوگئی، جس کے باعث سندھ کے تمام بڑے اسپتالوں میں ادویات کا شدید بحران پیدا ہوگیا، اسپتال آنے والے مریض دوائیں باہر سے خریدنے پر مجبور ہیں۔

کمیٹی کی سربراہی ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر سعید قریشی کے پاس تھی جنہوں نے کمیٹی کی سربراہی سے معذرت کرلی ہے۔

حکومت سندھ کی جانب سے تاحال نئے سربراہ کی تعیناتی نہیں ہوسکی ہے، جس کی وجہ سے کمیٹی کا اجلاس نہیں ہوسکا اور اسپتالوں کو ادویات کی خریداری کیلئے فہرستیں جاری نہیں کی گئیں اور سرکاری اسپتالوں نے ادویات کی خریداری کا عمل شروع نہیں کیا۔

سی پی سی میں تمام جامعات کے وائس چانسلرز شامل ہوتے ہیں جو اسپتالوں کیلئے ادویات کا انتخاب کرکے فہرستیں جاری کرتے ہیں جس کی بنیاد پر سرکاری اسپتال دوائیں خریدنے کے مجاز ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سرکاری اسپتالوں کو ادویات کی خریداری کیلئے مختص 85 فیصد بجٹ سے سی پی سی کی منتخب کردہ ادویات خریدی جاتی ہیں اور 15 فیصد ادویات کا بجٹ اسپتال کا استحقاق ہوتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے لوکل پرچیز کی مد میں ادویات خریدے۔

ذرائع کے مطابق پروکیورمنٹ کمیٹی کا اجلاس اور فہرستیں جاری نہ ہونے سے 85 فیصد ادویات نہیں خریدی جارہیں، جس سے تمام اسپتالوں میں ادویات کی قلت ہوگئی ہے، سندھ کے ٹریژی کیئر اسپتال اس وقت لوکل پرچیز سے ادویات خرید رہے ہیں۔

جناح اور سول اسپتال آنے والے مختلف مریضوں سے جب بات کی گئی تو انہوں نے شکوہ کیا کہ سرکاری اسپتالوں سے دوائیں نہیں ملتیں، سرکاری اسپتال آنے پر ایک آسرا ہوتا تھا کہ یہاں سے کم از کم دوائیں تو ملیں گی لیکن اب ادویات بھی نہیں ملتیں، محض اکا دکا دوائیں اور لال پیلے شربت دے دیتے ہیں باقی تمام دوائیں باہر میڈیکل اسٹورز سے خریدنی پڑتی ہیں، موجودہ مہنگائی کے دور میں دوائیں خریدیں، اپنا علاج کرائیں یا پیٹ پالیں۔

جناح اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر شاہد رسول سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ جناح اسپتال میں ادویات لوکل پرچیز سے خرید کر دی جا رہی ہیں، مشکلات کا سامنا ہے، سیکریٹری صحت سندھ کو اس حوالے سے تحریری طور پر آگاہ بھی کیا ہے۔

واضح رہے کہ جناح اسپتال میں ادویات کا سالانہ بجٹ ایک ارب 40 کروڑ روپے ہے۔

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت کو چاہئے کہ ہمیں ایک سہ ماہی کی ادویات گزشتہ سال کی بنیاد پر خریدنے کی اجازت دے، پھر جب کمیٹی فہرست جاری کرے اگلی سہ ماہی سے کمیٹی کی جاری کردہ فہرستوں پر ادویات خرید لیں گے۔

ڈاکٹر شاہد رسول نے کہا کہ اس وقت ادویات کی قیمتیں بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں بڑھ چکی ہیں، اس لئے ہمیں مشکلات پیش آرہی ہیں، ہم کسی نہ کسی طرح کچھ نہ کچھ ادویات اسپتال آنے والے مریضوں کو دے رہے ہیں۔

سول اسپتال کی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر روبینہ بشیر نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ادویات کی خریداری سے متعلق سیکریٹری صحت کو 4 اگست کو بھی تحریری طور پر آگاہ کیا ہے، دواؤں کی خریداری ہم سی پی سی کی منظوری کے بغیر نہیں کرسکتے، اس لیے ہم لوکل پرچیز کی مد میں جو دوائیں خرید سکتے ہیں وہ خرید رہے ہیں، لیکن وہ اتنی نہیں کہ ہر مریض کو ہر دوا دے سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بجٹ نہ دیں، ہمیں ادویات سمیت ضرورت کی تمام چیزیں دے دی جائیں، لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم دوائیں نہیں دے رہے جب دوائیں ہی نہ ہوں تو کہاں سے دیں۔

واضح رہے کہ سول اسپتال کا ادویات کا سالانہ بجٹ ایک ارب 10 کروڑ روپے ہے۔ ضلعی اسپتالوں سے ملنے والی معلومات کے مطابق ڈسٹرکٹ اسپتالوں میں تمام دوائیں تو موجود نہیں لیکن کچھ نہ کچھ ادویات اسپتال آنے والے مریضوں کو دی جا رہی ہیں۔

ڈائریکٹر صحت کراچی ڈاکٹر حمید جمانی نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ اسپتالوں کو سی پی سی کے تحت ادویات نہیں لینی ہوتیں، اس لئے ان کے ماتحت ضلعی اسپتالوں میں ادویات کا کوئی مسئلہ نہیں اور مریضوں کو دوائیں دی جارہی ہیں۔

بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ صحت کے افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کے ایم سی کے ماتحت اسپتالوں میں ادویات موجود نہیں، بلدیہ عظمیٰ کراچی ادویات فراہم نہیں کررہا ہے، کے ایم سی کے اسپتالوں میں ڈاکٹرز اپنی مدد آپ کے تحت فنڈز، زکوٰۃ، خیرات جمع کرکے ادویات خرید رہے ہیں ورنہ 2016ء سے اسپتالوں کو ادویات فراہم نہیں کی جارہیں۔

ڈائریکٹر جنرل صحت سندھ ڈاکٹر جمن بہوتو نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ پروفیسر سعید قریشی نے اپنی مصروفیات کی وجہ سے سی پی سی کیلئے معذرت کی ہے، جس کے بعد ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو کام کر رہی ہے، تاہم اس حوالے سے وزیر صحت سندھ زیادہ بہتر بتاسکتی ہیں۔

سندھ

HEALTH

Tabool ads will show in this div