پاک سوزوکی نے کسٹمرز کو گاڑیوں کی ڈیلیوری دینے سے معذرت کرلی

گاڑیوں کی قیمتوں میں اعلان کردہ ناکافی کمی سے بھی گاہک محروم

پاک سوزوکی نے ڈالر کی قدر میں کمی اور درآمدات میں درپیش مشکلات کی وجہ سے اپنے گاہکوں کو بروقت گاڑیوں کی ترسیل سے معذرت کرلی۔

کمپنی کی جانب سے کسٹمرز کے نام جاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ مئی 2022ء تک باوجود ان مشکلات کے کسٹمرز کو گاڑیوں کی ڈیلیوری دی گئی لیکن جون کے بعد سے شیڈول متاثر ہوگیا ہے۔

پاک سوزوکی کے پیغام کے بعد گاڑیوں کی بکنگ کے بعد کئی ماہ سے گاڑیوں کی ڈیلیوری کے انتظار میں بیٹھے کسٹمرز میں مایوسی چھاگئی ہے۔

آٹو ڈیلرز کے مطابق گاڑیوں کی بروقت ڈیلوری تو کمپنیاں پہلے بھی نہیں دے رہی تھیں۔ تمام ہی کمپنیوں کی بکنگ کے بعد ڈیلیوری کا عرصہ سات، آٹھ ماہ تک پہنچ چکا ہے۔

آٹو ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد کا کہنا ہے کہ آٹو اسمبلرز نے شہریوں سے بکنگ کی مد میں 300 ارب روپے جمع کئے ہوئے ہیں اور اس رقم کو وہ بینک میں رکھ کر منافع کما رہے ہیں۔

ایچ ایم شہزاد نے کہا کہ کسٹمرز کو بے وقوف بنایا جارہا ہے،کمپنیوں کے پاس بکنگ سے اضافی “سی کے ڈی” ہوتی ہیں۔ ہر کمپنی کی “سی کے ڈی” سپلائی کی ایک چین ہوتی ہے جو کم از کم ایک سال کی ضرورت یا جتنی گاڑیوں کی بکنگ ہوئی ہے اس کے مطابق تو ہوگی؟۔

ایچ ایم شہزاد کے مطابق قیمتیں اگر بڑھی ہیں یا درآمد میں کوئی دقت آرہی ہے تو یہ تو ابھی دو تین ماہ کا مسئلہ ہے لیکن اسمبلرز تو چھ، سات ماہ قبل کی بکنگ کے مطابق بھی ڈیلیوری نہیں دے رہے۔

واضح رہے کہ پاک سوزوکی، ٹویوٹا، یونائٹیڈ موٹرز اور ہونڈا اٹلس نے رواں ہفتے قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے جبکہ اس سے قبل یکم اگست سے تمام کمپنیوں کی جانب سے قیمتوں میں اضافہ بھی کیا گیا تھا۔

آٹو ڈیلر صابر شیخ کے مطابق اسمبلرز نے ڈالر کی قدر میں اضافے کو جواز بنا کر گاڑیوں کی قیمتوں میں اگست کے شروع میں جتنا اضافہ کیا تھا ڈالرکی قدر میں اتنی ہی کمی آنے کے باوجود انہوں نے قیمتوں میں اتنی کمی نہیں کی، اوپر سے ڈیلیوری بھی نہیں دے رہے، جس کی وجہ سے جو قیمتوں میں ناکافی کمی ہے اس سے بھی کسٹمرز کو محروم رکھا جارہا ہے۔

ایچ ایم شہزاد کے مطابق استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر پابندی عائد ہونے کے بعد کار اسمبلرز کی اجارہ داری قائم ہوگئی ہے حکومت استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دے تاکہ یہ اجارہ داری ختم ہو اور شہریوں کو مناسب قیمت پر گاڑیاں مل سکے۔

صابر شیخ کہتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے اسمبلرز کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے جس کا وہ بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں، گاڑیوں کی قیمتوں اور کوالٹی کی نگرانی کیلئے متعلقہ اداروں کو ابھی کارکردگی بہتر بنانی پڑے گی۔

Tabool ads will show in this div