نوازشریف کو برطانیہ چھوڑنے کی مہلت کی خبروں میں صداقت نہیں،قانونی ماہرین

نوازشریف کی اپیل کا عمل طویل مدت تک چل سکتا ہے، بیرسٹر غلام مصطفیٰ

برطانوی حکام کی جانب سے نوازشریف کو 25 ستمبر تک برطانیہ چھوڑنے کی مہلت دینے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی تمام اپیلیں مسترد ہونے تک انہیں ملک چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔

قانونی ماہر بیرسٹر غلام مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ نوازشریف کے کیس کی پہلے درجے کے ٹریبونل میں سماعت ہی نہیں ہوئی، تمام اپیلیں مسترد ہونے تک نواز شریف کو ملک چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔

بیرسٹر غلام مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ فروری میں پہلے درجے کے ٹریبونل میں صرف کیس منیجمنٹ کی سماعت ہوئی تھی جس میں نواز شریف کی شرکت ضروری نہیں تھی۔انہوں نے کیس کے حوالے سے مزید کہا کہ نوازشریف کی اپیل کا عمل طویل مدت تک چل سکتا ہے۔

واضح رہے کہ پچھلے سال اگست میں ہوم آفس نے نواز شریف کی اسٹے کی درخواست مسترد کر دی تھی لیکن انہیں ہوم آفس کے فیصلے کے خلاف اندرون ملک اپیل کا حق دیا تھا۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ شریف کو اس وقت تک برطانیہ چھوڑنے کی ضرورت نہیں جب تک کہ وہ برطانیہ میں اپیل کے اپنے تمام حقوق پورے نہیں کر لیتے۔

خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر ایک خبر گردش کر رہی ہے کہ برطانیہ کی حکومت نے نواز شریف کو 25 ستمبر 2022 تک ملک چھوڑنے کا کہا ہے لیکن قانونی ماہرین کاکہنا ہے کہ یہ خبر درست نہیں ہے کیونکہ حتمی فیصلہ آنے سے پہلے نواز شریف کی اپیل کو کئی مراحل سے گزرنا ہے۔

Nawaz Sharif

pmln

Tabool ads will show in this div