شرح سود میں تبدیلی ہوگی یا نہیں؟

فیصلہ مانیٹری پالیسی اجلاس میں پیر کو ہوگا

اسٹیٹ بینک کی زری پالیسی کمیٹی کا اجلاس 22اگست کو ہوگا جس میں ملک میں مہنگائی کی صورتحال اور دیگر معاشی اشاریوں کا جائزہ لے کر آئندہ ڈیڑھ ماہ کے لئے مانیٹری پالیسی کی منظوری دی جائے گی۔

واضح رہے کہ 7 جولائی کو اعلان ہونے والے مانیٹری پالیسی میں شرح سود 125بیسس پوائنٹس (1.25فیصد) کے اضافے سے 15فیصد کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

پیر22 اگست کو ہونیو الے اجلاس میں اگست کے آخری ہفتے کے اور ستمبر کے لئے شرح سود میں اضافہ ہوگا۔

کمی ہوگی یا موجودہ سطح برقرار رکھی جائے گی؟ اس بارے میں ماہرین کی اکثریت کا خیال ہے کہ شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی تاہم تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد متوقع طور پر مہنگائی بڑھنے کے پیش نظر بعض ماہرین شرح سود میں اضافے کا امکان بھی ظاہر کررہے ہیں۔

عارف حبیب سیکورٹیز کی جانب سے آئندہ مانیٹری پالیسی کے حوالے سے ایک سروے کیا گیا ہے جس میں بینکنگ،انشورنس اور کاروباری اداروں سے منسلک افراد نے شرح سود میں متوقع تبدیلی کے حوالے سے آراء کا اظہار کیا ہے۔

سروے کے نتائج کے مطابق 68 فیصد شرکاء کا خیال ہے کہ شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی جب کہ 16فیصد افراد کہنا ہے کہ 75بیسس پوائنٹس سے کم اضافہ متوقع ہے اور8فیصد افرادنے 100بیسس پوائنٹس اضافے کی توقع ظاہر کیا ہے۔

اسی طرح 4فیصد افراد کا خیال ہے کہ 125بیسس پوائنٹس مزید شرح سود بڑھ سکتی ہے جب کہ4 فیصد کے مطابق 150بیسس پوائنٹس سے زائد شرح سود میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

ٹاپ لائن سیکورٹیز کی جانب سے بھی آئندہ مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں متوقع تبدیلی کے حوالے سے سروے کا اہتمام کیا گیا۔

ٹاپ لائن سیکورٹیز سروے میں حصہ لینے والے شرکاء میں 56فیصد کا خیال ہے کہ شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی اور شرح سود موجودہ سطح پر برقرار رکھی جائے گی جب کہ 43فیصد شرکاء کے مطابق شرح سود میں اضافہ ہوگا اور ایک فیصد کا خیال ہے کہ شرح سود میں کمی بھی ہوسکتی ہے۔

monetary policy

State Bank Pakistan

Tabool ads will show in this div