کار بہہ جانے کا واقعہ؛ کار کا ڈرائیور ذمہ دار قرار

منع کرنے کے باوجود عبدالرحمان گاڑ پانی ميں لے گی، پولیس

کراچی ميں لنک روڈ پر پانی کے ريلے ميں فيملی سميت کار کے بہہ جانے کے واقعے کا ذمہ دار پوليس نے ڈرائيور کو قرار دے ديا۔

17 اگست کو بروز بدھ کو شام 6 بجے کاٹھور کے قریب ملیر ندی میں کار میں سوار ایک ہی خاندان کے 6 افراد ڈرائیور سمیت سیلابی ریلے میں ڈوب گئے تھے۔

ايس ايچ او ميمن گوٹھ عتیق الرحمان کے مطابق کار حادثے کا ذمہ دار کار ڈرائیور عبدالرحمان تھا، کیوں کہ منع کرنے کے باوجود عبدالرحمان گاڑی پانی میں لے گیا تھا۔

ایس ایچ اومیمن گوٹھ نے بتایا کہ حادثہ ڈرائیورکی غلطی کے باعث پیش آیا، کیوں کہ لنک روڈ پر پانی آنے کے بعد دو اطراف سے رکاوٹیں لگا دی تھیں، اور تمام افراد کو پانی کی جانب جانے سے منع کیا جارہا تھا۔

ایس ایچ او عتیق الرحمان نے بتایا کہ بدقسمت فیملی کے ڈرائیور عبدالرحمان کو بھی پولیس اہلکار بابر نے گاڑی پانی میں لے جانے سے منع کیا، لیکن عبدالرحمان تیزی سے گاڑی گزارتا ہوا چلا گیا اور گاڑی بہہ گئی۔

ایس ایچ او میمن گوٹھ کا کہنا تھا کہ سڑک بند کر کے شہریوں کو روکنا بہت مشکل ہوتا ہے، لیکن عوام کو احتیاط کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے۔

ملیرندی میں بہہ جانے والے افراد کون تھے

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کار ڈرائیو عبدالرحمان کے رشتہ دار حافظ ارمان نے بتایا کہ مولانا عبدالرحمان حیدر آباد کے علاقے ہیر آباد میں الحافظ ٹریولز کے نام سے ٹریول ایجنسی چلاتے تھے جبکہ ایک کتابوں کی دکان مکتبہ افلاح و تبلیغ بھی چلاتے ہیں، کتابوں کی دکان ان کے والد کرم داد کی تھی۔

حافظ عبدالحئی عارف جو کہ عبدالرحمان کے سگے بھائی ہیں، نے بتایا کہ عبدالرحمان غیر ملکی کرنسی کے تبادلے کیلئے کراچی گئے تھے، عبدالرحمان نے بدھ کی شام 5:30 بجے اپنی اہلیہ کو فون کیا اور بتایا کہ وہ حیدرآباد واپس آرہے ہیں اور ڈیڑھ گھنٹے میں گھر پہنچ جائیں گے۔

عبدالحئی عارف نے بتایا کہ عبدالرحمان کو اس کے دوست کا فون آیا کہ اس کی فیملی شادی کی ایک تقریب میں شرکت کیلئے کراچی گئی ہے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ رحمان کے دوست نے کہا اگر وہ قائدآباد سے اس کی فیملی کو بھی لے آئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عبدالرحمان نے دوست کی فیملی کو لیا لیکن جب وہ حیدرآباد کیلئے روانہ ہوئے تو انہیں ایم نائن موٹر وے سے ملحقہ علاقوں میں شدید بارش کی اطلاع ملی۔ عبدالحئی نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو فوٹیج وائرل ہوئی جس میں ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کو دیکھا جاسکتا ہے جو بارش کے پانی سے بھری ہوئی ہے۔

عبدالحئی کے مطابق عبدالرحمان نے کاٹھور موڑ پر ایم 9 موٹر وے کو ملانے والی قومی شاہراہ کا انتخاب کیا، لیکن ملیر ندی میں بارش کے پانی کے تیز بہاؤ نے ان کی فور وہیلر بہا کر لے گئی۔

سلیم قلندری جو خود کو مولانا عبدالرحمان کا کزن بتاتے ہیں، نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو میں کہا کہ عبدالرحمان رینٹ اے کار کا کاروبار بھی کرتے ہیں، رینٹ اے کار آپریٹرز کا ایک واٹس ایپ گروپ ہے اور عبدالرحمان بھی اس کا ممبر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ واٹس ایپ گروپ میں پیغام گردش کررہا تھا کہ ایک خاندان حیدرآباد کیلئے سواری کی تلاش میں ہے۔

سلیم قلندری کا کہنا ہے کہ عبدالرحمان اس وقت کلفٹن میں تھا اور جب انہیں معلوم ہوا کہ مذکورہ خاندان ان گھر کے قریب کا رہائشی ہے تو انہوں نے سواری قبول کرلی۔

انہوں نے بتایا کہ عبدالرحمان نے بدھ کی شام 6 بجکر 45 منٹ پر قائد آباد سے فیملی کو اٹھایا اور حیدرآباد کیلئے روانہ ہوگئے۔

عبدالرحمان کی گاڑی میں بیٹھنے والے محمد ذیشان انصاری اور ان کے خاندان کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے خاندان کے ایک رشتہ دار جنید نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ذیشان پیشے سے درزی تھا۔

انہوں نے کہا کہ ذیشان کا بڑا بھائی خالد بھی پیشے سے درزی ہے، وہ حیدر آباد کے علاقے لیاقت کالونی میں درزی کی ایک دکان چلاتا ہے، ذیشان اپنے بڑے بھائی سے کام لے کر گھر پر کپڑے سلائی کرتا تھا۔

جنید کے مطابق ذیشان کی بھانجی نے بچے کو جنم دیا اور گھر والوں نے عقیقے کا انتظام کیا تھا، ذیشان اور اس کا خاندان اس تقریب میں شرکت کیلئے کراچی گیا تھا، انہوں نے وہاں ایک رات گزاری اور اگلے دن (بدھ کو) واپس حیدرآباد آنے کیلئے روانہ ہوئے۔

میمن گوٹھ تھانے کے ایس ایچ او عتیق الرحمان نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ کیرتھر کے پہاڑوں پر شدید بارشوں سے ملیر ندی میں طغیانی آتی ہے، نیشنل ہائی وے کو ایم نائن موٹر وے سے جوڑنے والا کاز وے بدھ کی شام پانی کی زد میں آگیا۔ انہوں نے بتایا کہ جمعرات کی صبح ساڑھے 5 بجے تک سیلابی پانی کا ریلا کاز وے کے اوپر سے گزرتا رہا۔

عتیق الرحمان نے کہا کہ بدھ کی شام کو کاز وے پر گاڑیوں کی آمد و رفت معطل کردی گئی تھی، اطلاع کے مطابق بدھ کی رات تقریباً 8:30 بجے ایک کار نے کاز وے کو عبور کرنے کی کوشش کی۔

ایس ایچ او نے بتایا کہ ایک ٹریلر ڈرائیور نے کار ڈرائیور کو کہا کہ وہ کاز وے عبور نہ کرے لیکن اس نے اس تنبیہہ کو نظر انداز کردیا۔

عتیق الرحمان نے کہا کہ ملیر ندی میں گزشتہ رات خوفناک سیلاب آیا، سامان لے جانے والا ٹریلر کاز وے اور سڑک کے درمیان تین فٹ سیلابی پانی میں پھنسا ہوا ہے۔

مقامی انتظامیہ اور ایدھی فاؤنڈیشن کی ریسکیو ٹیموں نے جمعرات کو ذیشان کے 2 بچوں کی لاشیں نکال لیں جن کی شناخت 10 سالہ آمنہ اور 7 سالہ موسیٰ کے نام سے ہوئی ہے جبکہ رات میں اندھیرا چھا جانے پر ریسکیو آپریشن روک دیا گیا۔

سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے محمد ذیشان انصاری، ان کی اہلیہ رابعہ اور دو بیٹوں محمد عباد، محمد آیان اور ڈرائیور مولانا عبدالرحمان کی تلاش کا کام جمعہ کی صبح ایک بار پھر شروع کردیا گیا۔

بہہ جانے والی کار مل گئی

ایدھی کے رضا کاروں نے ڈوبنے والی گاڑی کو ریلے سے نکال لیا، لیکن گاڑی میں سوار فیملی کی تلاش کا کام تاحال جاری ہے۔ غوطہ خوروں نے ندی سے بچے کی لاش نکالی ہے، جس کے بارے میں ممکنہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ وہ متاثرہ فیمیلی کے بچے کی ہے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق لاپتا اہل خانہ کا تعلق حیدرآباد سے ہے، جو کراچی سے اپنی منزل کیجانب رواں دواں تھا۔

گاڑی میں میاں بیوی، 4 بچے اور ڈرائیور سوار تھے۔ گاڑی پل سے بہتے ہوئے ڈیڑھ کلو میٹر دور چلی گئی تھی۔

دوسری جانب ملیر ندی ( Malir Naddi ) کے سیلابی پانی میں عمر سنز کے مقام پر 2 لڑکوں کے پھنسنے کی اطلاع پر امدادی ٹیمیں روانہ ہوگئیں۔

بارشوں ( Karachi Rain ) کے بعد کورنگی کاز وے روڈ ٹریفک کے لیے تاحال بند ہے۔ میمن گوٹھ کے قریب ملیر ندی پر بنے ریزروائر کی دیوار سے کئی فٹ اوپر سے پانی گزر رہا ہے۔ ادھر گلستان جوہر میں اسکول وین کیچڑ میں پھنسنے کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔

Tabool ads will show in this div