کراچی کی ملیر ندی میں بہہ جانے والے کون تھے؟

بدھ کو شدید بارشوں کے باعث سیلابی ریلے میں گاڑی بہہ گئی تھی

کراچی حیدرآباد موٹر وے پر تیز بارش کے بعد سیلابی ریلے میں ایک کار بہہ گئی تھی، جس میں میاں بیوی اور 4 بچوں سمیت 7 افراد ڈوب گئے تھے۔

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کار ڈرائیو عبدالرحمان کے رشتہ دار حافظ ارمان نے بتایا کہ مولانا عبدالرحمان حیدر آباد کے علاقے ہیر آباد میں الحافظ ٹریولز کے نام سے ٹریول ایجنسی چلاتے تھے جبکہ ایک کتابوں کی دکان مکتبہ افلاح و تبلیغ بھی چلاتے ہیں، کتابوں کی دکان ان کے والد کرم داد کی تھی۔

حافظ عبدالحئی عارف جو کہ عبدالرحمان کے سگے بھائی ہیں، نے بتایا کہ عبدالرحمان غیر ملکی کرنسی کے تبادلے کیلئے کراچی گئے تھے، عبدالرحمان نے بدھ کی شام 5:30 بجے اپنی اہلیہ کو فون کیا اور بتایا کہ وہ حیدرآباد واپس آرہے ہیں اور ڈیڑھ گھنٹے میں گھر پہنچ جائیں گے۔

عبدالحئی عارف نے بتایا کہ عبدالرحمان کو اس کے دوست کا فون آیا کہ اس کی فیملی شادی کی ایک تقریب میں شرکت کیلئے کراچی گئی ہے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ رحمان کے دوست نے کہا اگر وہ قائدآباد سے اس کی فیملی کو بھی لے آئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عبدالرحمان نے دوست کی فیملی کو لیا لیکن جب وہ حیدرآباد کیلئے روانہ ہوئے تو انہیں ایم نائن موٹر وے سے ملحقہ علاقوں میں شدید بارش کی اطلاع ملی۔ عبدالحئی نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو فوٹیج وائرل ہوئی جس میں ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کو دیکھا جاسکتا ہے جو بارش کے پانی سے بھری ہوئی ہے۔

عبدالحئی کے مطابق عبدالرحمان نے کاٹھور موڑ پر ایم 9 موٹر وے کو ملانے والی قومی شاہراہ کا انتخاب کیا، لیکن ملیر ندی میں بارش کے پانی کے تیز بہاؤ نے ان کی فور وہیلر بہا کر لے گئی۔

سلیم قلندری جو خود کو مولانا عبدالرحمان کا کزن بتاتے ہیں، نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو میں کہا کہ عبدالرحمان رینٹ اے کار کا کاروبار بھی کرتے ہیں، رینٹ اے کار آپریٹرز کا ایک واٹس ایپ گروپ ہے اور عبدالرحمان بھی اس کا ممبر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ واٹس ایپ گروپ میں پیغام گردش کررہا تھا کہ ایک خاندان حیدرآباد کیلئے سواری کی تلاش میں ہے۔

سلیم قلندری کا کہنا ہے کہ عبدالرحمان اس وقت کلفٹن میں تھا اور جب انہیں معلوم ہوا کہ مذکورہ خاندان ان گھر کے قریب کا رہائشی ہے تو انہوں نے سواری قبول کرلی۔

انہوں نے بتایا کہ عبدالرحمان نے بدھ کی شام 6 بجکر 45 منٹ پر قائد آباد سے فیملی کو اٹھایا اور حیدرآباد کیلئے روانہ ہوگئے۔

عبدالرحمان کی گاڑی میں بیٹھنے والے محمد ذیشان انصاری اور ان کے خاندان کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے خاندان کے ایک رشتہ دار جنید نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ذیشان پیشے سے درزی تھا۔

انہوں نے کہا کہ ذیشان کا بڑا بھائی خالد بھی پیشے سے درزی ہے، وہ حیدر آباد کے علاقے لیاقت کالونی میں درزی کی ایک دکان چلاتا ہے، ذیشان اپنے بڑے بھائی سے کام لے کر گھر پر کپڑے سلائی کرتا تھا۔

جنید کے مطابق ذیشان کی بھانجی نے بچے کو جنم دیا اور گھر والوں نے عقیقے کا انتظام کیا تھا، ذیشان اور اس کا خاندان اس تقریب میں شرکت کیلئے کراچی گیا تھا، انہوں نے وہاں ایک رات گزاری اور اگلے دن (بدھ کو) واپس حیدرآباد آنے کیلئے روانہ ہوئے۔

میمن گوٹھ تھانے کے ایس ایچ او عتیق الرحمان نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ کیرتھر کے پہاڑوں پر شدید بارشوں سے ملیر ندی میں طغیانی آتی ہے، نیشنل ہائی وے کو ایم نائن موٹر وے سے جوڑنے والا کاز وے بدھ کی شام پانی کی زد میں آگیا۔ انہوں نے بتایا کہ جمعرات کی صبح ساڑھے 5 بجے تک سیلابی پانی کا ریلا کاز وے کے اوپر سے گزرتا رہا۔

عتیق الرحمان نے کہا کہ بدھ کی شام کو کاز وے پر گاڑیوں کی آمد و رفت معطل کردی گئی تھی، اطلاع کے مطابق بدھ کی رات تقریباً 8:30 بجے ایک کار نے کاز وے کو عبور کرنے کی کوشش کی۔

ایس ایچ او نے بتایا کہ ایک ٹریلر ڈرائیور نے کار ڈرائیور کو کہا کہ وہ کاز وے عبور نہ کرے لیکن اس نے اس تنبیہہ کو نظر انداز کردیا۔

عتیق الرحمان نے کہا کہ ملیر ندی میں گزشتہ رات خوفناک سیلاب آیا، سامان لے جانے والا ٹریلر کاز وے اور سڑک کے درمیان تین فٹ سیلابی پانی میں پھنسا ہوا ہے۔

مقامی انتظامیہ اور ایدھی فاؤنڈیشن کی ریسکیو ٹیموں نے جمعرات کو ذیشان کے 2 بچوں کی لاشیں نکال لیں جن کی شناخت 10 سالہ آمنہ اور 7 سالہ موسیٰ کے نام سے ہوئی ہے جبکہ رات میں اندھیرا چھا جانے پر ریسکیو آپریشن روک دیا گیا۔

سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے محمد ذیشان انصاری، ان کی اہلیہ رابعہ اور دو بیٹوں محمد عباد، محمد آیان اور ڈرائیور مولانا عبدالرحمان کی تلاش کا کام جمعہ کی صبح ایک بار پھر شروع کیا جائے گا۔

Rain and Flood

KARACHI RAIN

Tabool ads will show in this div