ایچ آئی وی کا انسداد: کراچی ‘فاسٹ ٹریک سٹیز’ منصوبے کا حصہ بن گیا

مرتضیٰ وہاب اور یوکی ٹاکی موٹو نے پیرس اعلامیے پر دستخط کئے

کراچی ایچ آئی وی پر قابو پانے کیلئے ‘‘فاسٹ ٹریک سٹیز’’ کا حصہ بن گیا۔ ایڈمسنٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب اور یو این ایڈز کی پاکستان میں نمائندہ یوکی ٹاکی موٹو نے معاہدے پر دستخط کردیئے۔

پیرس اعلامیہ پر دستخط کیلئے منعقدہ تقریب میں وزیر صحت و بہبود آبادی سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سندھ ڈاکٹر جمن بہوتو اور ایڈیشنل ڈائریکٹر کمیونیکیبل ڈیزیز کنٹرول سندھ ڈاکٹر ارشاد کاظمی بھی موجود تھے۔

معاہدے پر دستخط کے بعد کراچی پاکستان کا پہلا، ایشیاء کا گیارہواں شہر ہے جو دنیا کے 350 سے زیادہ شہروں کے نیٹ ورک کا حصہ بن گیا ہے، فاسٹ ٹریک سٹیز سال 2014ء میں 200 شہروں کا ایک نیٹ ورک تھا جس کے تحت 200 شہروں نے ایک ڈکلیریشن پر دستخط کئے تھے۔

معاہدے کے مطابق ان تمام شہروں کو ایچ آئی وی رسپانس فاسٹ ٹریک پر کرنا تھا، اس معاہدے کے تحت ان تمام شہروں کو ہدف 90-90-90 پر کام کرنا تھا، یعنی ایچ آئی وی سے متاثرہ 90 فیصد افراد کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ وہ ایچ آئی وی سے متاثر ہیں، ان میں سے 90 فیصد کو علاج کی سہولیات مل رہی ہوں اور علاج ہونیوالے 90 فیصد مریض ریگولر علاج مل رہا ہو یعنی ان کا علاج بیچ میں رک نہ جائے، اب یو این ایڈز نے اس ہدف کو بڑھا کر 95-95-95 کردیا ہے۔

کراچی 8 سال بعد اس پیرس معاہدے کا حصہ بن گیا ہے، جس کیلئے ایڈیشنل ڈائریکٹر کمیونیکیبل ڈیزیز کنٹرول (ایچ آئی وی / ایڈز) سندھ ڈاکٹر ارشاد کاظمی نے یو این ایڈ کے ساتھ مل کر کوششیں کی تھیں اور یو این ایڈز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک پیغام میں معاہدے کیلئے ان کی کوششوں کو بھی سراہا ہے۔

محکمہ صحت سندھ کے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 2 لاکھ 10 ہزار افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہیں، جن میں سے 43 فیصد کا تعلق سندھ سے ہے، ان میں صرف 19 ہزار 31 افراد رجسٹرڈ ہیں جبکہ 16 ہزار 686 اینٹی ریٹرو وائرل علاج حاصل کر رہے ہیں، جن میں سے 7 ہزار 774 کا تعلق کراچی سے ہے۔

ڈاکٹر ارشاد کاظمی نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ اس وقت سندھ میں ایچ آئی وی کے مریضوں کے علاج کیلئے 21 سینٹرز موجود ہیں، جلد 2 مزید سینٹرز کراچی جنوبی اور سانگھڑ میں کام شروع کردیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تلاش کیلئے اسکریننگ بڑھادی گئی ہے جو ہزاروں سے اب لاکھوں تک پہنچ چکی ہے، ایک سال کے دوران ہم نے ساڑھے 7 لاکھ افراد کی اسکریننگ کی، اس میں 5 لاکھ کے قریب حاملہ خواتین بھی شامل تھیں۔

ارشاد کاظمی کا مزید کہنا ہے کہ اسکریننگ بڑھانے کے نتیجے میں ایک سال کے دوران سندھ میں مزید 5 ہزار نئے مریضوں تک پہنچے ہیں اور ان کا علاج شروع کیا ہے، دسمبر 2022ء تک ہمارا ہدف ہے کہ 19 ہزار تک پہنچنے والی اس تعداد کو رجسٹرڈ کرکے 25 ہزار تک پہنچا دیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے 2022ء کے اختتام تک اپنا ہدف حاصل کرلیا تو آئندہ 3 سال یعنی 2025ء تک تمام ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کو رجسٹرڈ کرکے ان کا علاج شروع کردیں گے، اس میں ہم اُن لوگوں تک بھی پہنچ جائیں گے جنہیں علم ہی نہیں ہے کہ وہ ایچ آئی وی سے متاثر ہیں۔

ڈاکٹر ارشاد کاظمی نے بتایا کہ یو این ایڈز نے اس معاہدے کے تحت 2030ء تک ہدف رکھا ہے کہ ایچ آئی وی پر قابو پایا جائے یعنی جو مثبت کیسز ہیں ان کا علاج جاری رہے اور نئے کیسز میں اضافہ نہ ہو یا کم سے کم ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی 0.01 ایک فیصد آبادی ایچ آئی وی سے متاثر ہے لیکن ‘‘کی پاپولیشن’’ یعنی ٹرانسجینڈر، نشہ کرنے والے افراد، میل اور فی میل سیکس ورکرز میں ایچ آئی وی کی شرح زیادہ ہے، اسی طرح جو ‘‘ولنر ایبل پاپولیشن’’ یعنی تھیلیسیمیا، ہیموفیلیا کے مریض اور قیدی شامل ہیں غیرمعیاری خون کی منتقلی اور استعمال شدہ سرنجز کے استعمال کی وجہ سے ان میں بھی ایچ آئی وی کی شرح زیادہ ہے۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر کمیونیکیبل ڈیزیز کنٹرول (ایچ آئی وی / ایڈز) سندھ کا کہنا تھا کہ عمومی طور پر معاشرے میں ایچ آئی وی کو ایک بدنما داغ سمجھا جاتا ہے اور ایسے افراد کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا، اس معاہدے کے تحت متاثرہ افراد کو اس معاشرے کا باعزت شہری بنانے کیلئے تعصب یا امتیازی سلوک کے خاتمے کیلئے کام کرنا بھی شامل ہے۔

یاد رہے کہ صوبہ سندھ میں ایچ آئی وی پازیٹو افراد کے ساتھ امتیازی سلوک ایک قابل سزا و جرمانہ جرم ہے۔

پاکستان

HIV/AIDS

PARIS DECLARATION

UNAID

Tabool ads will show in this div