اسٹیبلشمنٹ سے سوال پوچھتا ہوں آپ نے کیسے ان لوگوں کو مسلط ہونے دیا،عمران خان

ہمیشہ سمجھتا رہا اسٹیبلشمنٹ کو ملک کی زیادہ فکر ہوگی،چیئرمین تحریک انصاف
Aug 18, 2022

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے سوال پوچھتا ہوں آپ نے کیسے ان لوگوں کو مسلط ہونے دیا۔

اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کو پتہ تھا کہ یہ لوگ 30 سال سے ملک کو لوٹ رہے ہیں، یہ خو دان کی کرپشن کے بارے میں بتایا کرتے تھے۔ تو پھر ان کا راستہ کیوں نہیں روکا گیا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمیشہ سمجھتا رہا اسٹیبلشمنٹ کو ملک کی زیادہ فکر ہوگی، وہ اس چیز کو نہیں ہونے دے گی اور جب چوری دیکھے گی تو ردعمل دیں گے۔ مگر آپ نے ان کو مسلط ہونے دیا، اس کا مطلب آپ کےلیے چوری کوئی بری چیز نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب وزیراعظم بنا تو ان کے سارے کیسز میچور تھے مگر اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہورہی تھی، بعد میں پتہ چلا کے ان کے سر پر کسی نے شفقت کا ہاتھ رکھا ہوا تھا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ جب نیب کسی کو گرفتار کرتے تھے تو گالیاں مجھے پڑتی تھی مگر حقیقت یہ ہے کہ نیب میرے انڈر نہیں تھا، ورنہ ہم 15،20 لوگوں سے اربوں روپے ریکور کرلیتے۔

سابق وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ اختیارات کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے، آپ کے پاس اختیارات ہیں ، یہ اس وقت جو بھی ہورہا ہے تاریخ میں لوگ آپ کو موردِ الزام ٹھہرائیں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ جنرل پرویز مشرف کا ساتھ اسلیے دیا تھا کہ ہم سمجھتے تھے وہ کرپشن ختم کرنے آیا ہیں مگر بعد میں پتہ چلا کہ وہ بھی اقتدار کیلئے آئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ نیوٹرلز کو کہتاہوں ابھی بھی وقت ہے،اپنی پالیسیوں پرنظرثانی کریں، صاف و شفاف الیکشن کےعلاوہ کوئی بتادے سیاسی استحکام کیسے آئے گا؟ سیاسی استحکام صاف اور شفاف الیکشن سے آئے گا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ کرپشن کیخلاف سیاست میں آیا تھا، چوروں کے نیچے زندگی گزارنے سے بہتر موت ہے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں لوگوں کو مختلف طریقوں سے نفسیاتی طور پر دباؤ کے ذریعے بھیڑ بکریوں کی طرح اس حکومت کو تسلیم کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا کے لوگوں کو اٹھایا جاتا ہے، یہ نہیں کہتے کہ معافی مانگو بلکہ کہتے ہیں کہ یہ کہو کے عمران خان نے ہمیں ان کے خلاف ٹویٹ کرنے کا کہا تھا۔

چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ جتنا مرضی خوف پھیلالیں قوم اٹھ رہی ہے کچھ نہیں کرسکیں گے، شہبازگل سے ایک جملہ نکل گیا اس کو نہیں کہنا چاہیے تھا مگر شہبازگل کو ننگا کرکے ٹارچر کیاگیا،ذہنی اذیت دی گئی۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ معاشرہ تباہ کرناہے تو ایٹم بم کی ضرورت نہیں،اخلاقیات ختم کردیں، جہاں قانون کی عملداری نہیں ہوتی وہاں کرپشن ہوتی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ چاہتا ہوں قوم آزاد ہو،آزاد قوم ہی اوپر جائے گی، غلامی انسان میں احساس کمتری ڈال دیتی ہے۔ غلام کبھی بڑے کام نہیں کرسکتا۔

انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار رائے انسان کو آزاد کرنے کا طریقہ ہے اسلئے آمرکی کوشش ہوتی ہے انسان کی سوچ اور معاشرے کو کنٹرول کرے۔

PTI

IMRAN KHAN

Tabool ads will show in this div