ایسٹس ریکوری یونٹ پر 35 کروڑ خرچ، ریکوری صفر رہی، رپورٹ

یونٹ غیر فعال ہوگیا، کابینہ ڈویژن نے وزارت قانون کو آگاہ کردیا

ملکی خزانے پر ایک اور بے جا بوجھ کی کہانی سامنے آگئی، ایسٹس ریکوری یونٹ پر 35 کروڑ روپے کا بجٹ خرچ کردیا گیا مگر ریکوری صرف صفر رہی۔ یونٹ کو ملک سے لوٹی اربوں ڈالرز کی رقم واپس لانے کا ٹاسک دیا گیا تھا مگر یونٹ ایک پائی بھی واپس نہ لاسکا۔

احتساب کے نام پر ایک بار پھر کروڑوں روپے خرچ کردیئے گئے لیکن اس سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ عمران خان دور حکومت میں قائم کئے گئے ایسٹس ریکوری یونٹ کو اربوں ڈالرز کی لوٹی گئی قومی دولت واپس لانے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔

کابینہ ڈویژن نے ایسٹس ریکوری یونٹ کی کارکردگی سے متعلق ایک سمری تیار کی ہے، وزارت قانون کو مطلع کیا گیا ہے کہ ایسٹس ریکوری یونٹ غیرفعال ہوگیا، اس حوالے سے وزیراعظم کو آگاہ کردیا جائے، معاملات ٹھپ پڑے ہیں۔

سماء انویسٹی گیشن یونٹ کو موصول دستاویز کے مطابق ایسٹس ریکوری یونٹ پر عمران خان دور میں 35 کروڑ روپے خرچ کردیئے گئے مگر اس کی کارکردگی صفر رہی، یونٹ ملکی دولت کا ایک پیسہ بھی واپس نہیں لایا جاسکا۔

سماء کو موصول دستاویز کے مطابق ایسٹس ریکوری یونٹ کے سربراہ شہزاد اکبر اور ان کی ٹیم نے 25 غیرملکی دورے کئے، ان دوروں پر 7 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔

جن ممالک کے دورے کئے گئے ان میں چین، برطانیہ، یو اے ای اور سوئٹزر لینڈ شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2018ء میں ایسٹس ریکوری یونٹ کو 6 کروڑ 77 لاکھ روپے کا بجٹ ملا،2019ء میں 7 کروڑ 60 لاکھ، 2020ء میں 7 کروڑ 85 لاکھ، 2021ء میں 7 کروڑ 90 لاکھ اور 2022ء میں 4 کروڑ 90 لاکھ روپے کا بجٹ ملا۔

پاکستان

Shehzad Akbar

ASSETS RECOVERY UNIT

Tabool ads will show in this div