یہ 70 کی دہائی نہیں کہ پاگل پن میں کوئی کسی جماعت کو تحلیل کر دے،جسٹس بابر ستار

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن سے جواب طلب کرلیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی کی اپیل قابل سماعت ہونے پر الیکشن کمیشن سے 24 اگست تک جواب طلب کر لیا۔

تحریک انصاف کی ممنوعہ فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل پر پہلی سماعت میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو پری ایڈمشن نوٹس جاری کر دیا۔

تین رکنی لارجر بینچ نے قرار دیا کہ الیکشن کمیشن کو سن کر اپیل کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ کریں گے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کچھ آبزرویشنز فوری معطل کرنے کی استدعا منظور نہ کی۔

قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں لارجر بینچ کے روبرو پی ٹی آئی وکیل انور منصور نےمؤقف اختیار کیا کہ رُولز میں غیر قانونی فنڈز صرف اور صرف ضبط ہو سکتے ہیں ، قانون میں یہ نہیں لکھا انفرادی شخص کے علاوہ کسی سے فنڈ نہیں لینا۔ اس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا قانون میں لیکن یہ ضرور لکھا ہے کہ صرف انفرادی فنڈز لینے ہیں ، صرف کے لفظ کو کیسے نظر انداز کریں گے؟

جسٹس بابر ستار نے پوچھا کیا آپ الیکشن کمیشن کی آبزرویشن حذف کرانا چاہتے ہیں ؟ انورمنصور نےجواب دیا الیکشن کمیشن نےعمران خان کو نوٹس دیئے بغیر ڈیکلیئر کر دیا کہ انہوں نے قانون کے مطابق معلومات نہیں دیں ، الیکشن کمیشن نے اختيار سے باہر جو لکھا اسے معطل کریں۔

جسٹس بابرستار نے کہا آپ پری میچور باتیں کر رہے ہیں ، یہ 70 کی دہائی نہیں کہ پاگل پن میں کوئی کسی جماعت کو تحلیل کر دے، وفاقی حکومت جب خود مطمئن ہوگی تب آپ کو نوٹس کرے گی۔ عدالت نے الیکشن کمیشن سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 24 اگست تک ملتوی کر دی۔

PTI

Islamabad High Court (IHC)

Prohibited Party Funding Case

Tabool ads will show in this div