نیب قانون میں ترمیم کے بعد بڑی پیشرفت

کیسز لینے کے حوالے سے تمام نیب بیوروز سے سفارشات طلب

نیب قانون میں ترمیم کے بعد بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے، کون سا کیس چلائیں کون سا بند کریں؟، نیب نے تمام ریجنل بیوروز سے سفارشات طلب کرلیں۔

نیب قانون میں ترمیم کے بعد بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے، تمام نیب بیوروز سے سفارشات طلب کرلی گئی ہیں کہ کون سا کیس چلائیں کون سا بند کریں۔

نیب ہیڈکوارٹرز نے تمام ریجنل بیوروزکو مراسلہ بھیج دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ تمام زیر التوا انکوائریوں، تحقیقات اور مقدمات کا جائزہ لیا جائے۔

مراسلے میں تمام ریجنل بیوروز کو تنبیہ کی گئی ہے کہ 26 اگست تک کیسز پر نظرثانی کرکے سفارشات ہیڈ کوارٹر بھیجی جائیں۔

نیب میں ترمیم

نیب قانون میں ہونے والی ایک اور ترمیم سے کئی ہائی پروفائل اور سیاسی مقدمات بند ہونے کا راستہ کھل گیا ہے، اور سابق چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کے دور میں قائم کیسز میں سے کئی ختم ہونے کا امکان ہے۔

نئے قانون کے مطابق جس علاقے میں جرم سرزد ہونے کا الزام ہو، اسی صوبے میں ٹرائل چل سکے گا، اور اس ترمیم کے تحت مبینہ جعلی اکاؤنٹس اسکینڈل کے 14 ریفرنس، 13 انکوائریاں اور 18تحقیقات سندھ منتقل ہوجائیں گی، تو 50 کروڑ سے کم کے کرپشن الزام پرنیب کا دائرہ اختیار ختم ہونے سے کئی کیسز سرے سے ختم ہی ہو جائیں گے۔

نئی ترمیم کے مطابق چئیرمین نیب کو دیگر حکام کی مشاورت سے عدالت میں دائر ریفرنس واپس لینے کا اختیار مل گیا ہے، ذرائع کیمطابق اس اختیار کے تحت گزشتہ چار سال کے دوران قائم کیسز پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔

نئے قانون کے تحت کمزور شواہد پر نیب کی سُبکی کا باعث بننے والے کیسز واپس لئے جا سکتے ہیں، اس کے علاوہ مجاز فورمز سے منظور منصوبوں پر بنائے گئے کیسز مکمل یا جزوی طور پر واپس لینے کی درخواست بھی کسی بھی وقت دی جا سکتی ہے۔

ایل این جی اور نارروال اسپورٹس سٹی ریفرنس کا جائزہ بھی نئے قانون کیمطابق دوبارہ لیا جائے گا۔

Tabool ads will show in this div