اسرائیل نے فلسطین میں 7 انسانی حقوق تنظیموں کے دفاتر بند کردیے

نابلس میں فائرنگ سے فلسطینی نوجوان شہید ہوگیا

اسرائیل نے فلسطین میں انسانی حقوق کی سات تنظیموں کے دفاتر کو بند کردیا جبکہ نابلس می اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک فلسطینی نوجوان شہید ہوگیا۔

فلسطینی خبر ایجنسی وفا کے مطابق فائرنگ سے شہید ہونے والے نوجوان کی شناخت 20 سالہ وسیم نصر خلیفہ کے نام سے ہوئی جو نابلس کے نواح میں واقع بالاٹا پناہ گزین کیمپ سے تعلق رکھتا تھا۔

ایک اور واقعے میں اسرائیلی فورسز کی بھاری نفری نے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے رام اللہ میں چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی سات تنظیموں کے دفاتر کو سیل کردیا۔

اے ایف پی کے مطابق بند کیے گئے دفاتر میں الحق نامی تنظیم کا دفتر بھی شامل ہے جس کے بیرونی دروازے پر عبرانی زبان میں نوٹس لگا دیا گیا ہے کہ اسے ’سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر بند رکھا جائے گا۔

الحق کا شمار چھ فلسطینی تنظیموں میں ہوتا ہے جنہیں اسرائیل نے اکتوبر میں ‘دہشت گرد’ قرار دیا تھا اور ان کا تعلق عسکری گروہ پی ایف ایل پی سے جوڑا تھا جو فلسطین کی آزادی کے لیے سرگرم عمل ہے۔

اسرائیل ان تنظیموں کے پی ایف ایل پی کے ساتھ مبینہ تعلق کے شواہد کبھی سامنے نہیں لایا۔ گذشتہ ماہ نو یورپی ممالک نے کہا تھا کہ وہ چھ تنظیموں کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے کیوں کہ اسرائیل کی جانب سے انہیں ‘دہشت گرد’ قرار دینے کے جواز کے ‘کافی شواہد’ پیش نہیں کیے گئے۔

جمعرات کی صبح الحق کے عملے نے دفتر کے دروازے پر لگائی گئی لوہے کی چادریں ہٹا دیں اور اپنا کام جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا حالانکہ ان کے کمپیوٹر اور دفتر کا دیگر سامان اسرائیلی فوج اپنے ساتھ لے جا چکی تھی۔

Israeli forces

PLESTINE

HUMAN RIGHTS VOILATION

NGO's shutdown

Tabool ads will show in this div