مرغے کی بانگوں سے تنگ شخص کا پڑوسی کے خلاف مقدمہ

مرغے کی وجہ سے اپنے گھر میں سکون سے نہیں رہ سکتے، فریڈرچ ویلہم

جرمنی میں ایک بوڑھے پڑوسی نے مرغے کی بانگوں سے تنگ آکر اس کے مالک کے خلاف مقدمہ دائر کردیا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق جرمنی کے مغرب میں واقع شہر بیڈ سالزوفلین (Bad Salzuflen) کے رہائشی 76 سالہ فریڈرچ ویلہم (Friedrich-Wilhelm) اور ان کی بیوی جوٹا ( wife ) نے اپنے پڑوسی کے خلاف درخواست دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے پڑوسیوں کے مرغے کی وجہ سے طویل عرصے سے گھر میں پرسکون دن نہیں گزار سکے۔

عمر رسیدہ جوڑے کا موقف ہے کہ پڑوسیوں کا مرغا ہر روز صبح 8 بجے سے بانگیں دینا شروع کرتا ہے اور شام ڈھلنے تک خاموش نہیں ہوتا۔ ہم اپنے ہی گارڈن میں نہیں جاسکتے یہاں تک کہ گھر کی کوئی کھڑکی بھی نہیں کھول سکتے۔

فریڈرک اور جوٹا کا کہنا ہے کہ انہوں نے پڑوسیوں کو کئی مرتبہ مسئلہ بتایا اور سمجھانے کی کوشش کی لیکن اس کا حل نہ نکلنے پر انہیں عدالت جانا پڑا۔ پڑوسی اپنے مرغے کا کوئی انتظام نہیں کررہا ۔ اب یا تو ہمیں اس مرغے کے ساتھ زندگی بھر جینا ہے یا پھر عدالت میں قانونی جنگ جیتنی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مرغا روزانہ صبح 8 بجے بانگ دینا شروع کرتا ہے اور سورج غروب ہونے تک نہیں رکتا، جب مالکان اسے اپنی دوسرے مرغی کے ساتھ پنجرے میں بند کردیتے ہیں۔

فریڈرک اور جوٹا کے وکیل کا کہنا ہے کہ اس طرح کے کسی پالتو جانور کی کسی مہذب اور پرسکون کالونی میں کوئی گنجائش نہیں۔ اسی مرغے کی وجہ سے 2 سال پہلے ایک پڑوسی یہاں سے نقل مکانی بھی کرچکا ہے۔

تارسٹن گائیسکی کا کہنا تھا کہ مرغے کی آواز اتنی ہی بلند ہے جتنی ایک مصروف سڑک یا گاہکوں سے بھرے ہوٹل کی ہوتی ہے۔

فریڈرک اور جوٹا نے عدالت میں ثبوت کے طور پر مرغے کی بانگوں کو روزانہ کی بنیاد پر ریکارڈ کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب مرغے کے مالک مائیکل ڈی (Michael D) کا کہنا ہے کہ ان کا مرغا مرغیوں کے ریوڑ میں ایک اہم کردار کا حامنل ہے، اس کی موجودگی میں مرغیوں کے درمیان بہت امن رہتا ہے، مرغا نہ ہو تو مرغیاں ایک دوسرے کا چونچیں مار مار کر برا حال کرلیں گی۔

NEIGHBOUR

ROOSTER

cock

Tabool ads will show in this div