سندھ میں شدید بارشوں کے باعث زندگی مفلوج، متعدد اضلاع ڈوب گئے

شدید بارش کے باعث لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے

کراچی سمیت سندھ میں بھر ہونے والی شدید بارشوں نے کاروبار زندگی مفلوج کردیا ہے، متعدد علاقے ڈوب گئے ہیں، سڑکیں اور گلیاں ندی نالوں کا منظر پیش کررہی ہیں۔

شدید بارشوں کے باعث سندھ کے اضلاع میں متاثرہ خاندان شاپنگ پلازوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں، اور متعدد حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔

صحرائے تھر بارشوں کے بعد جہاں سبزے سے نکھر گیا ہے اور سندھ کے مختلف شہروں سے سیاح اس خوبصورتی سے لطف اٹھانے پہنچ رہے ہیں، تو دوسری جانب سندھ کے ضلع تھرپارکر کے دامن میں واقع مٹھی بارش کے پانی میں ڈوب چکا ہے۔

شدید بارش کے باعث مٹھی کا علاقہ مسلم سران کالونی ڈوب گئی ہے، علاقہ مکینوں کے گھروں اور گلیوں میں پانی جمع ہے، اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی پر مجبور ہیں۔

ناقابل بیان بارشوں سے حیدرآباد کی صورتحال بھی تیزی سے بگڑرہی ہے، نشاط، کلاتھ مارکیٹ، گرونگر ایریا پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں، اور مرکزی نالہ بھر جانے کے بعد پانی گھروں میں داخل ہوچکا ہے۔

سندھ میں شدید بارشوں کے باعث عمرکوٹ ضلع بھی شدید متاثرہ علاقوں میں شامل ہے، سانگھڑ شہر 80 فیصد ڈوب گیا ہے، اور کچے مکانات میں رہنے والوں نے شاپنگ سینٹرز میں پناہ لے رکھی ہے۔

خیر پور میں چھت گرنے سے بچی جاں بحق ہوگئی ہے، دادو بھی زیر آب آگیا ہے، ٹھٹہ کے شہر گھارو میں بھی پانی نے تباہی مچادی ہے، جب کہ پنجاب کا بڑا سیلابی ریلا سندھ میں داخل ہوچکا ہے، جس کے باعث سکھر اور گڈو بیراج پر سیلابی صورتحال ہے۔

کراچی میں بھی مسلسل بارش نے متعدد علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا کردی ہے، اور تھڈو ندی پھر اوورفلو ہوگئی ہے۔

کاٹھور کے قریب کراچی سے حیدرآباد جانے والا بدقسمت خاندان بھی ریلے کی نذر ہوگیا ہے، گاڑی میں میاں بیوی اورچار بچے سوار تھے، لیکن کسی کا کچھ پتہ نہ چل سکا، کاٹھور کے مقام پر گاڑی کو تباہ حالت میں نکال لیا گیا ہے اور لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق ملیر ندی میں بہنے والی کار میں سوار تمام افراد کا تعلق حیدر آباد سے تھا جو مختلف کاموں کے سلسلے میں کراچی آئے تھے۔

اسکیم 33 میں اربن فلڈنگ کے باعث لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں، نیو انچولی اور اطراف میں گھٹنوں گھٹنوں پانی ہونے کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے

بولاری ندی کا پانی گڈاپ میں داخل ہوگیا ہے، کورنگی کراسنگ اور کاز وے پر سیلابی صورتحال ہے۔

دوسری جانب محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شہر میں آج پھر بادل جم کے برسیں گے، جس سے اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے، محکمہ موسمیات نے تعلیمی ادارے بند اور شہریوں کو بلا ضرورت گھر سے نہ نکلنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹےمیں سب سے زیادہ 102 ملی میٹر بارش گلشن حدید میں ہوئی، صدر میں 60، قائدآباد 49، یونیورسٹی روڈ پر 44، گڈاپ میں37 ملیرمیٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔

وزیرِاعظم شہبازشریف نے سیلاب سے جانی و مالی نقصان پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کو 50 ہزار فی خاندان فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

شہبازشریف نے حکومت سندھ کو متاثرین کی رہائش اورطبی سہولیات کی فوری فراہمی اور متاثرہ علاقوں میں کاروائیاں تیز کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

flood

Rain and Flood

Monsoon Rain

Tabool ads will show in this div