کابل: مسجد میں دھماکے سے مذہبی رہنما سمیت 21 جاں بحق

حملے کا نشانہ ملا امیر محمد کابلی تھے، غیر ملکی خبر ایجنسی

افغانستان کے دارالحکومت کابل کی مسجد میں بم دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 21 ہوگئی جبکہ 33 کے قریب زخمی ہیں۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق یہ دھماکا بدھ کی شام کو اس وقت ہوا جب مسجد میں نماز ادا کی جارہی تھی، صدیقیہ مسجد میں ہونے والے حملے کے زخمیوں میں کئی بچے بھی شامل ہیں۔

خبر ایجنسی نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ خود کش حملے کا نشانہ مذہبی رہنما ملا امیر محمد کابلی تھے جو اس حملے میں جاں بحق ہوگئے ہیں۔

کابل پولیس کے ترجمان خالد زادران نے اے ایف پی کو بتایا کہ دھماکا مسجد میں نصب بم پھٹنے سے ہوا۔

کابل کے اسپتال کا انتظام سنبھالنے والی اٹلی کی ایک غیر سرکاری تنظیم ایمرجنسی نے ہسپتال میں 27 زخمیوں کو لانے کی تصدیق کی ہے جن کے جسموں پر جلنے کے نشانات تھے۔ ایمرجنسی نے بتایا کہ زخمیوں میں پانچ بچے بھی تھے۔

حملے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی اور طالبان نے بھی کسی کو ذمہ دار قرار نہیں دیا۔

Terrorism

KABUL

MOSQUE

bomb blast

attack on mosque

Tabool ads will show in this div