شہباز گل کو اسپتال سے ڈسچارج کیا جائیگا یا نہیں؟ فیصلہ آج ہوگا

ابتدائی میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں شہباز گل صحت مند قرار
<p>اسلام آباد: یہ تصویر ٹوئٹر سے لی گئی ہے</p>

اسلام آباد: یہ تصویر ٹوئٹر سے لی گئی ہے

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ( پمز) ( PIMS ) اسپتال کا میڈیکل بورڈ ڈاکٹر شہباز گل ( Shahbaz Gill ) کو داخل رکھنے یا ڈسچارج کرنے کا فیصلہ آج کرے گا۔ شہباز گل کو گزشتہ روز 17 اگست کو اڈیالہ جیل سے ایمبولینس کے ذریعے اسپتال منتقل کیاگیا تھا۔

قبل ازیں بغاوت پر اکسانے کے کیس میں گرفتار پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے رہنما شہباز گل کو پمز اسپتال کے کارڈیک سینٹر میں داخل کرالیا گیا، جہاں ان کے طبی معائنے کیلئے 3 رکنی میڈیکل بورڈ قائم کیا گیا۔ پروفیسر ڈاکٹر شجیع صدیقی 3رکنی میڈیکل بورڈ کے سربراہ تھے، جب کہ نیورو سرجن ڈاکٹر لال رحمان اور آرتھوپیڈیک سرجن ڈاکٹر رضوان بھی بورڈ کے اراکین میں شامل تھے۔ بورڈ کی جانب سے شہباز گل کا طبی معائنہ کیا گیا۔

اسپتال ذرائع کے مطابق ڈاکٹر شہباز گل کو دمہ کی بیماری کی بنیاد پر پمز اسپتال میں داخل کیا گیا، جہاں شہباز گل کا سانس کی تکلیف کا ابتدائی علاج شروع کیا گیا، پمز میڈیکل بورڈ کی ہدایت پر آج صبح 18 اگست بروز جمعرات پلمونالوجی کی ٹیم ان کا طبی معائنہ کرے گی، پلمونالوجسٹ ڈاکٹر ضیاء طبی معائنہ اور علاج تجویز کریں گے۔ شہباز گل نے ڈاکٹروں کو کمر اور جسم میں درد کی شکایت کی تھی۔

پمز میڈیکل بورڈ نے شہباز گل کے سینے اور کمر کے ایکسریز کروائے کا فیصلہ کیا ہے۔ جب کہ شہباز گل کے سینے کے ایکسریز رات کو ہوئے، تاہم کمر کے ایکسریز دن کے وقت کرائے جائیں گے۔ پمز کے کارڈلوجسٹ ڈاکٹر شفیق نے بھی طبی معائنہ مکمل کرکے رپورٹ میڈیکل بورڈ کو دیدی ہے۔ ابتدائی میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں شہباز گل کو صحت مند قرار دیا گیا۔

واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس نے ملزم شہباز گل کو اچھی جسمانی صحت کے ساتھ جیل حکام کے حوالے کیا تھا، جس کی گزشتہ روز وزیر داخلہ پنجاب نے بھی تصدیق کی تھی کہ وہ صحت مند ہیں، تاہم بعد ازاں انہیں 1122 کی ایمبولینس میں پمز لایا گیا۔

شہباز گل کو اسپتال میں رکھا جائے یا پولیس کے حوالے کیا جائے، اس سلسلے میں میڈیکل بورڈ اور پولیس افسران نے میٹنگ بھی کی۔ ذرائع کے مطابق شہباز گل کے تمام ٹیسٹ رپورٹس موصول ہونے کے بعد اگلا لائحہ عمل تشکیل دیا جائے گا۔ جس کے بعد میڈیکل بورڈ پولیس افسران کو آگاہ کرے گا۔ پمز کے ڈاکٹروں نے ڈاکٹر شہباز گل کے ضروری بلڈ ٹیسٹ بھی تجویز کیے تھے۔

جسمانی ریمانڈ

واضح رہے کہ اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کی جج زیبا چوہدری نے شہباز گل کی جسمانی ریمانڈ کی نظرثانی اپیل پر 17 اگست بروز بدھ کو فیصلہ سناتے ہوئے مزید 48 گھنٹے کیلئے انہیں پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔

جج زیبا چوہدری نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ میں نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد تفصیلی جائزہ لیا ہے، پولیس کی نامکمل تفتیش کی دلیل سے متفق ہوں، جس پر عدالت نے پولیس کی استدعا منظور کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما کو مزید 48 گھنٹے کیلئے پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔

دوسری جانب تحریک انصاف نے شہباز گل کو تفتیش سے بچانے کیلئے ہرحربہ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جب کہ قانون کی پاسداری کرنے والے وزیراعلیٰ پنجاب بھی صورتحال میں بے بس دکھائے دے رہے ہیں۔

شہباز گل کا متنازع بیان

واضح رہے کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے نجی ٹی وی چینل کو اپنے شو میں رہنما تحریک انصاف شہباز گل کا تبصرہ نشر کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ان کا بیان مسلح افواج کی صفوں میں بغاوت کے جذبات اکسانے کے مترادف تھا۔

مذکورہ گفتگو میں ڈاکٹر شہباز گل نے الزام عائد کیا تھا کہ حکومت، فوج کے نچلے اور درمیانے درجے کے لوگوں کو تحریک انصاف کے خلاف اکسانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج میں ان عہدوں پر تعینات اہلکاروں کے اہل خانہ عمران خان اور ان کی پارٹی کی حمایت کرتے ہیں جس سے حکومت کا غصہ بڑھتا ہے۔

انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کا اسٹریٹجک میڈیا سیل پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور مسلح افواج کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کے لیے غلط معلومات اور جعلی خبریں پھیلا رہا ہے۔

شہباز گل گرفتار

پی ٹی آئی کے چیف آف اسٹاف اور جارحانہ رہنما شہباز گل کو رواں ماہ 9 اگست کو بنی گالہ چوک سے گرفتار کیا گیا تھا ، جب وہ سفید رنگ کی گاڑی میں ڈرائیور کے ہمراہ دفتر سے روانہ ہو رہے تھے۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق پی ٹی آئی رہنما کو گرفتار کرکے تھانہ بنی گالہ منتقل کیا گیا ہے۔ شہباز گل پر بغاوت پر اکسانے کے الزام کے تحت مقدمہ درج ہوا ہے۔

شہباز گل کی گرفتاری کی اطلاع مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر پارٹی رہنما فواد چوہدری اور مراد سعید نے دی تھی۔

Tabool ads will show in this div