ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ کیوں ٹوٹا؟

اوپن مارکیٹ میں 2 روز میں ڈالر 6 روپے مہنگا ہوگیا

ڈالر گرتے گرتے سنبھل گیا ہے، شہری ڈالر کی قدر میں کمی بلکہ اچھی خاصی کمی کی توقع کررہے تھے لیکن اس کے برعکس 16 اگست کو اوپن مارکیٹ میں ڈالر مہنگا ہونا شروع ہوا اور 17 اگست کو انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوگیا، اس بدلتی صورتحال نے شہریوں کو ایک بار پھر تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

ڈالر ایکسپورٹ کرنے کی اجازت ملنے کا ڈالر کی قدر بڑھنے سے کیا تعلق ہے؟

اسٹیٹ بینک کی جانب سے ایکسچینج کمپنیوں کو 15 اگست کو ڈالر ایکسپورٹ کرنے کی اجازت د ی گئی، اس اجازت کے بعد اگلے ہی روز سے ڈالر کی قدر میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا اور صرف 2 روز میں اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 6 روپے بڑھ گئی۔

ایک کرنسی ڈیلرز نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ فیصلہ درست نہیں ہے، اس سے پہلے کرنسی ڈیلرز صرف انٹر بینک میں ڈالر فروخت کرسکتے تھے اب انہیں اگلے ماہ 30 ستمبر تک بیرون ملک ڈالر برآمد کرنے کی اجازت مل گئی ہے، جس کی وجہ سے ان کے پاس آپشنز بڑھ گئے ہیں اور وہ اس صورتحال کا فائدہ اٹھانے لگے ہیں۔

مزید جانیے: ایکسچینج کمپنیز کو ڈالر برآمد کرنے کی اجازت مل گئی

کرنسی ڈیلرز کے مطابق انٹر بینک میں بینک، ایکسپورٹرز اور امپورٹرز کی ملی بھگت کے باعث گزشتہ ماہ ڈالر کی قدر میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جس سے کچھ لوگوں نے چند روز میں بڑی کمائی کی اور اب کرنسی ڈیلرز کو بھی موقع مل گیا ہے کہ وہ ڈالر ایکسپورٹ کرنے اور واپس لانے کے عمل میں دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کمائی کرسکتے ہیں۔

تاہم ملک بوستان کا کہنا ہے کہ ایکسچینج کمپنیوں نے ڈالر ایکسپورٹ شروع کردیا ہے لیکن اس کا ڈالر کی قدر بڑھنے سے کوئی تعلق نہیں ہے، ڈالر کی قدر میں اضافہ مارکیٹ میکنزم کے تحت ہوا ہے۔

ملک بوستان کے مطابق ڈالر ایکسپورٹ کی اجازت ملنے کے فیصلے سے ڈالر فروخت کرنے والے شہریوں کو فائدہ ہوا ہے کیونکہ اس سے پہلے انہیں انٹر بینک سے کم ریٹ مل رہے تھے لیکن اب انہیں انٹر بینک کے مساوی ریٹ ملنے لگے ہیں، اس کے علاوہ منی چینجرز نے اپنا منافع بھی کم کردیا ہے اور خرید و فروخت کا فرق 2 روپے رہ گیا ہے جو 5 سے 10روپے تک پہنچ گیا تھا۔

ملک بوستان کا کہنا ہے کہ کمرشل بینک ان سے ڈالر نہیں خرید رہے تھے اس لئے ہم نے اسٹیٹ بینک سے اضافی ڈالر ایکسپورٹ کی اجازت مانگی تھی۔

واضح رہے کہ انٹر بینک میں 29 جولائی کو پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ شروع ہوا تھا جو 16 اگست تک جاری رہا لیکن 17 اگست کو یہ تسلسل ٹوٹ گیا۔ 28 جولائی کو ڈالر 239 روپے 94 پیسے کا تھا جو کم ہوتے ہوتے 16 اگست کو 213 روپے 90 پیسے کی سطح پر آیا یعنی اس دوران ڈالر کی قدر میں 26.04 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی لیکن 17 اگست کو یہ تسلسل ٹوٹ گیا اور ڈالر 98 پیسے کے اضافے سے 214.88 روپے ہوگیا۔

دوسری جانب اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں کمی اضافے میں تبدیل ہونے کا سلسلہ انٹر بینک سے ایک روز پہلے یعنی 16 اگست کو ہی شروع ہوا اور انٹر بینک کے برعکس اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر بڑھنے کی رفتار بھی اس قدر تیز رہی کہ صرف 2 روز میں ڈالر 6 روپے کے اضافے سے 210 روپے سے بڑھ کر 216 روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔

پاکستان

dollar

currency rates

Rana mukhtar ahmad Aug 18, 2022 09:01am
گورنمنٹ کو ڈالر 180 یا 190 پر آنے کے بعد کوئ فیصلہ کرنا چاہیے
Ihsanullah Aug 18, 2022 05:37pm
Instability
Rizwan Aug 21, 2022 10:25am
لو جی ایک بار پھر سٹہ ہونے جا رہا ہے ڈالر پہ یہ گورنمنٹ آئی ہی پیسہ بنانے کے لیے۔
Tabool ads will show in this div