افغان طالبان کا باغی ہزارہ کمانڈر مولوی مہدی کو مارنے کا دعویٰ

مولوی مہدی طالبان قیادت سے اختلاف کے بعد منحرف ہوگئے تھے

افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ باغی طالبان ہزارہ کمانڈر مولوی مہدی کو ہلاک کردیا گیا۔

افغان وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مولوی مہدی کو ہرات صوبے کے سرحدی علاقے میں اس وقت مارا گیا جب وہ ایران جانے کی کوشش کررہے تھے۔

افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک طالبان کے سابق رکن مولوی مہدی جس نے درجنوں مسلح باغیوں کی کمانڈ کی تھی، منگل 16 اگست کی رات ایران میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے مارے گئے۔

طالبان کی وزارت دفاع کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بلخاب میں امارت اسلامیہ کے خلاف بغاوت کرنے کے بعد مہدی اپنے ساتھیوں کے ساتھ پہاڑوں میں روپوش ہوگئے تھے۔

ترجمان کے مطابق گزشتہ دنوں مولوی مہدی ایران فرار ہونے کی منصوبہ بندی کررہے تھے کہ انٹیلی جنس ادارے کے اہلکاروں نے ہرات اور ایران کے سرحدی علاقے میں ان کی نشاندہی کی، جہاں اسے اس کے کئے کی سزا دی گئی۔

دوسری جانب بعض افغان صحافیوں نے ذرائع سے لکھا ہے کہ طالبان کے سیکیورٹی اداروں کو مولوی مہدی کی گرفتاری یا موت کا کوئی ثبوت نہیں ملا، یہ خبر صرف طالبان کی سرحدی فورس کے کمانڈروں کی رپورٹ کی بنیاد پر جاری کی گئی ہے۔

باغی طالبان کمانڈر مولوی مہدی مجاہد کون تھے؟

مہدی مجاہد ان چند افغان ہزارہ شہریوں میں سے ایک تھے جنہوں نے طالبان تحریک میں شمولیت اختیار کی، دیگر طالبان رہنماؤں کے برعکس انہوں نے نہ کسی مدرسے میں تعلیم حاصل کی اور نہ وہ روس کیخلاف لڑنے والے مجاہدین میں شامل تھے۔

مولوی مہدی کا تعلق شمالی افغانستان کے صوبہ سرپل کے شہر بلخاب کے ایک نواحی گاؤں سے تھا، جنہوں نے اپنی ابتدائی زندگی غربت میں گزاری۔ افغان طالبان میں ان کی شمولیت کے حوالے سے باقاعدہ اعلان اپریل 2021ء میں کیا تھا۔

مولوی مہدی مجاہد سابقہ حکومت میں افغان اہلکاروں پر متعدد حملوں میں ملوث رہے ہیں اور کئی سال تک وہ جیل میں بھی رہ چکے ہیں۔

مولوی مہدی کو طالبان حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد بامیان کا انٹلیجنس سربراہ مقرر کیا تھا تاہم جب ان کو ہٹایا گیا تو وہ طالبان کے مخالف ہوگئے۔

چند ماہ قبل ہزارہ برادری کے ایک اجتماع میں سیکڑوں حامیوں نے مولوی مہدی کا ساتھ دینے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد طالبان کی افغان حکومت نے ان پر بغاوت کا الزام لگایا تھا۔

مولوی مہدی ہزارہ برادری میں اثر و رسوخ رکھنے والے کمانڈر تھے، انہوں نے رواں سال جولائی میں اپنی کمان میں درجنوں افواج کے ساتھ طالبان کے ساتھ جنگ کا اعلان کیا تھا، ان کو گرفتار کرنے کیلئے طالبان فورسز کے تمام حملے ناکام ہوگئے تھے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ طالبان حکومت نے افغانستان میں ہزارہ برادری کے حقوق کو نظر انداز کیا ہے اور وہ طاقت کے ڈھانچے میں ان کی پوزیشن کو مستحکم کرنے کا ارادہ رکھتے ہے۔

خیال رہے کہ طالبان کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ قیادت سے لے کر نچلی سطح تک اس میں پختونوں کی اکثریت ہے، جنہیں صرف افغانستان کے پختون اکثریتی صوبوں میں مقبولیت حاصل ہے تاہم اس بار طالبان نے تاجک، ازبک، ہزارہ اور ترکمان قومیتوں میں بھی اثر و رسوخ بڑھالیا ہے۔

اگرچہ نئی افغان کابینہ میں ابتدائی طور پر شمالی افغانستان میں آباد غیر پشتونوں کو صرف 3 عہدے ملے تھے، جن میں 2 تاجک اور ایک ازبک شامل ہیں تاہم طالبان کے مختلف کمیشنز اور ضلعی سطح کے کمانڈرز میں تاجک اور ازبک نسل کے لوگ اس وقت بڑی تعداد میں نظر آرہے ہیں۔

افغانستان

AFGHAN TALIBAN

Tabool ads will show in this div