ماضی اور حال کو سمیٹتے ہوئے ساڑھے 14 اگست

آرٹس کونسل میں انور مقصود کے نئے اسٹیج شو کا آغاز

دس سال قبل شروع ہونیوالے سلسلے کی ایک کڑی ساڑھے 14 اگست جس میں جناح اور گاندھی کے درمیان مکالموں میں دونوں کی نوک جھونک، طنز اور مشکلات کا سامنا کرتی صورت حال کو نہایت مہارت کے ساتھ انور مقصود کے قلم نے لکھا ہے۔

کراچی میں مون سون کا سیزن جاری تھا کہ شہر میں ایک بار پھر ہونیوالی زوروں کی بارش میں ساڑھے 14 اگست تھیٹر پلے کا میڈیا شو، جس میں مجھے تو توقع تھی کہ رش ہی رش ہوگا وہ بھی کرسی توڑ رش مگر شہر میں برسات نے شاید لوگوں کو گھروں میں رُکنے پر مجبور کردیا، پھر شام ساڑھے 6 کے بعد ساڑھے چودہ اگست شروع ہوا۔

پاکستان میں تھیٹر کی کامیابی کی ضمانت سمجھے جانیوالے نوجوان ہدایت کار داور محمود نے ابتدائی کلمات ادا کئے، پھر آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ نے اظہار خیال کیا اور ساتھ تھیٹر پلے کے مصنف انور مقصود کو مدعو کیا، انور مقصود نے روایتی انداز میں صرف دو باتیں کیں لیکن ان باتوں کی گہرائی خوب تھی۔

خیر پرفارمنس کا آغاز ہوا۔ بیک گراؤنڈ میں کشمیر کی حسین وادیوں پر مبنی بیک ڈراپ پر ایک بیٹی اور باپ کو دکھایا گیا، باپ بیٹی کے درمیان مکالمے جذباتی تھے کہ اچانک گولیوں کی بوچھاڑ شروع ہو جاتی ہے اور اسٹیج پر فوجی وردیوں اور مجاہدین کے روپ میں نوجوان آرٹسٹ نمودار ہوجاتے ہیں۔ وہیں قائداعظم اور گاندھی کی انٹری ہوتی ہے اور دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت کو مزاحیہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

قائد اور گاندھی فوجیوں اور مجاہدین سے بھی گفتگو کرتے ہیں، ساتھ ہی کچھ دیر بعد گولیاں برسنی شروع ہوجاتی ہیں۔ کشمیر کے اس بیک گراؤنڈ میں گاندھی جناح کی طرف دیکھتے ہوئے کہتے ہیں ‘جناح تیرا اور میرا کامبینشن کتنا اسٹرونگ ہے نا’۔

کشمیر کے سین کا اختتام موٹیویشنل انداز میں ہوتا ہے کہ جب لڑکی بچوں کی آوازوں پر ان کو ریسکیو کرکے ایک نئی زندگی کا آغاز کرتی ہے۔

سیٹ بدلنے کے دوران تھیٹر ہال میں جیسے ایک میلہ سا لگ گیا ہو، ہال میں تین طرف سے نوجوان لڑکے لڑکیوں کی انٹری ہوتی ہے۔ پھر اچانک اسٹیج کے لال کرٹن کے سامنے لاہور کے کلچر کی جھلک نظر آتی ہے، وہی میلے ٹھیلے، چارپائی، وڈیرے، پتنگ کے پیچ لڑاتے نوجوان۔ ایسا لگتا ہے کہ پورا لاہور ہی اسٹیج کے سامنے اور تھیٹر ہال میں سما گیا ہو۔

ادھر لاہور کے سین کو پیش کرنے کیلئے مینار پاکستان کے احاطے کے منظر کو دکھایا گیا، اس سیٹ پر گاندھی کی دوستی ایک پاکستانی لڑکی سے ہوجاتی ہے، جس کی نانی بھارت سے ہوتی ہیں، یہاں بھی گاندھی یہی پوچھتے نظر آتے ہیں کہ کیا پاکستان کے لوگ خوش ہیں؟، اس سیٹ پر پاکستان کی سیاسی منظر کشی بھی کی گئی اور ایک غریب آدمی کو بھی دکھایا گیا کہ اس کا کسی بھی سیاسی منظر نامے سے کوئی تعلق واسطہ نہیں۔ اسی سیٹ پر بچوں کے اسکول کی مینار پاکستان پر پکنک اور اسکول ٹیچر کے ساتھ ہونیوالی بات چیت بھی دکھائی گئی، اس حصے میں اس پر زور دیا گیا کہ کیسے ملکی تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔

لاہور کا حصہ ضرورت سے زیادہ طویل محسوس ہوا اور پھر سین کا اختتام پارٹیشن کے سین پر ہوا، جہاں سے پھر دہلی اور لندن کے سیٹس پر ہونیوالی بات چیت اور جناح و گاندھی کے ایک دوسرے پر بازی لے جانیوالے جملے شامل تھے۔

دہلی کا سین ایک چمکدار سیٹ سے شروع ہوا، جس پر گاندھی بھارت کو خوبصورت اور چمکتا دیکھ کر خوش ہوجاتے ہیں لیکن گاندھی کی یہ خوشی جلد ہی اداسی میں بدل جاتی ہے، جب بھارت میں غربت، افلاس اور انتہا پسندی دیکھتے ہیں۔

دہلی کے سیٹ پر مجھے اس بات پر کچھ اختلاف محسوس ہوا کہ بھارتی فلمی صنعت کو دکھایا گیا جو ممبئی میں آباد ہے اور غربت جتنی ممبئی میں ہے دلی میں وہ غربت نہیں۔

بہرحال سیٹ بدلنے کے دوران پھر ایک بار فنکار اسٹیج کے اطراف نظر آئے اور یوں لندن کے کلچر کی عکاسی کی جانے لگی۔ کہیں ڈانس کرتے نوجوان دکھائی دیئے تو ساتھ ہی مسیحی مذہب کے مطابق شادی کے بندھن میں دولہا دلہن بھی اسٹیج پر نظر آئے اور یوں بلآخر قائد اور گاندھی اپنی آخری منزل لندن پہنچ جاتے ہیں۔

یہاں حاضرین کو ایک سرپرائز ملتا ہے کہ جب سندھ اور پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے جیالے کے روپ میں ساجد حسن کی انٹری ہوتی ہے۔

تھیٹر پلے کی منفرد بات

اس تھیٹر پلے میں چار مختلف شہروں کے مناظر دکھانے کیلئے چار مختلف سیٹس لگائے گئے تھے، ان میں کشمیر، لاہور، دہلی اور لندن شامل ہیں جبکہ سیٹس بدلنے کے دورانیے میں لگ بھگ 200 آرٹسٹس کو انگیج کیا گیا، جنہیں لاہور اور لندن کی ثقافت کو اجاگر کرنے کے علاوہ پارٹیشن جیسے دردناک سفر کی منظر کشی کیلئے بھی استعمال کیا گیا۔

اتنی بڑی تعداد میں فنکاروں کی موجودگی نے اسٹیج پر جیسے ایک ہلچل سی محسوس کروائی اور بعض اوقات یوں محسوس ہوا جیسے کہ ہم بھی تھیٹر کے ہی کوئی کردار ہوں، اس تھیٹر پلے کیلئے خصوصی طور پر ایک ڈانس نمبر یا آئٹم سانگ کو ترتیب دیا گیا، جس کا میوزک معروف موسیقار شیراز اُپل نے دیا۔

تھیٹر پلے میں گاندھی کے کردار کو تنویر گل نے ادا کیا، ان کا تعلق چیچہ وطنی سے ہے، جو اس سے پہلے بھی بہت سے تھیٹر ڈراموں میں اداکاری کرچکے ہیں، تنویر گل نے شاندار اداکاری کی، گاندھی کے مکالمے اس انداز سے پیش کئے کہ حاضرین سے بے حد داد سمیٹی۔

تھیٹر پلے کا دورانیہ 2 گھنٹے ہے، طوالت کی وجہ سے کئی مرتبہ بیزاری بھی محسوس ہوئی لیکن اس کے باوجود بھی کئی برسوں بعد کراچی والوں کو آرٹس کونسل آف پاکستان میں پیش کئے جانیوالے پلے سے تفریح کا ایک موقع ضرور ملے گا۔

کراچی

ANWAR MAQSOOD

arts council karachi

SARRHEY 14 AUGUST

رضوان علی سومرو Aug 19, 2022 12:54pm
اس اسٹوری پر فلم بنانی چاہے
Tabool ads will show in this div