قائمہ کمیٹی کا ہاکی اورفٹبال کےکھیل کی خراب صورتحال پر اظہارِبرہمی

پی سی بی کےاخراجات کی آڈٹ رپورٹ پیش کیوں نہیں کی جارہی ہے

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ میں ملک میں ہاکی اور فٹبال جیسے کھیلوں سے کھلواڑ پر برہمی کا اظہار کیا گیا۔

بدھ کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کا گرما گرم اجلاس ہوا۔اجلاس میں ہاکی اور فٹبال جیسے کھیلوں سے کھلواڑ پر کمیٹی برہم ہوئی۔

اجلاس میں ہاکی کے دو گروپس آمنے سامنےآگئےاورایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کردی۔ اس پر ہاکی فیڈریشن کے نمائندوں نے احتجاج شروع کردیا۔ کمیٹی میں احتجاج کرنے پر ہاکی فیڈریشن کے نمائندوں کو اجلاس سے نکال دیا گیا۔

کمیٹی ارکان نے کہا کہ پی سی بی کےاخراجات کی آڈٹ رپورٹ پیش کیوں نہیں کی جارہی ہے۔کمیٹی کی رکن مہرین رزاق بھٹو نے کہا کہ معلومات کوحساس قرار دیا جا رہا ہے اورجواز یہ پیش کرتے ہیں کہ میڈیا اس معلومات کا استحصال کرے گا۔انھوں نے کہا کہ اگر پی سی بی حکام ڈالرز میں تنخواہ اور دیگر مراعات لیتے ہیں تو اگر ہم سب پارلیمنٹیرینزعوام کو جوابدہ ہیں تو انہیں بھی جوابدہ ہونا چاہیئے۔

احسان مزاری نے کمیٹی کو بتایا کہ ہاکی کا مستقبل بہتر بنانے کیلئے وزیر اعظم کو سمری بھیج دی ہےجبکہ فٹبال فیڈریشن کی بحالی کے لیے کمیٹی کو جلد الیکشن کروانے کا کہہ دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ کامن ویلتھ گیمز میں شاندار کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو وزیر اعظم نے حوصلہ افزائی کیلئے 22 اگست کو مدعو کیا ہے۔

NATIONAL ASSEMBLY

SPORTS COMMITTEE

Tabool ads will show in this div