شہباز گل کا دوبارہ جسمانی ریمانڈ منظور، پولیس کے حوالے

عدالت نے فیصلہ سنا دیا

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کی جج زیبا چوہدری نے شہباز گل (Shahbaz Gill ) کی جسمانی ریمانڈ کی نظرثانی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے شہباز گل کو مزید 48 گھنٹے کیلئے پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) ( PTI ) رہنما شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ مسترد ہونے کے حکم کے خلاف نظرثانی درخواست پر آج بروز بدھ 17 اگست کو سماعت ہوئی۔ آج ہونے والی سماعت میں شہباز گل کے وکیل اور اسپیشل پراسیکیوٹر نے اپنے اپنے دلائل مکمل کیے۔ کیس کی سماعت جج زیبا چوہدری نے کی۔ دونوں جانب سے دلائل مکمل ہونے پر جج زیبا چوہدری نے درخواست پر دوپہر 3 بجے تک فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

جج زیبا چوہدری نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ میں نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد تفصیلی جائزہ لیا ہے، پولیس کی نامکمل تفتیش کی دلیل سے متفق ہوں، جس پر عدالت نے پولیس کی استدعا منظور کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما کو مزید 48 گھنٹے کیلئے پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔

آج سماعت میں کیا ہوا؟

سماعت کے آغاز میں پراسیکیوٹر راجا رضوان عباسی نے مقدمے کا متن پڑھ کر عدالت کو سنایا۔ انہوں نے کہ شہباز گِل کی گرفتاری کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ نے 2 روز کا جسمانی ریمانڈ دیا، تفتیشی افسر کی جانب سے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزم بار بار جھوٹ بول رہا ہے، پولی گرافک ٹیسٹ کروانا ہے، پولیس کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو جوڈیشل مجسٹریٹ عمر شبیر نے مسترد کیا، ملزم سے اسکا موبائل فون برآمد کرنا ہے جس میں سارا مواد موجود ہے۔

پراسیکیوٹر راجا رضوان عباسی نے یہ بھی کہا کہ تفتیشی افسر نے واضح طور پر لکھا کہ محض ریکوری نہیں بلکہ مختلف پہلوؤں پر تفتیش بھی کرنی ہے، ملزم کا موبائل فون اس کے ڈرائیور کے قبضہ میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیوٹی مجسٹریٹ کو تمام پہلوؤں کو دیکھنا چاہیے تھا لیکن استدعا مسترد کر دی گئی، کس نے ملزم کے اسکرپٹ کی منظوری دی؟ ابھی تفتیش کرنا باقی ہے۔

اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ نے لکھا کہ شہباز گل نے کہا اس کا موبائل ان کے پاس نہیں بلکہ ڈرائیو کے پاس ہے، جوڈیشل مجسٹریٹ نے ملزم کے بیان کو حتمی کیسے مان لیا؟ قانون شہادت کے مطابق یہ درست نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عاشورہ کی وجہ سے سگنل بند ہونے کا جواز بھی درست نہیں ہے، جوڈیشل مجسٹریٹ کا فیصلہ خلاف قانون ہے کالعدم قرار دیا جائے، پولیس نے ایک ایک دن تفتیش سے متعلق پولیس ڈائری میں لکھا۔

پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے اپنے دلائل میں کہا کہ ملزم کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا منظور کی جائے، تفتیش محض ریکوری کا نام نہیں ہے۔

پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ملزم شہباز گل کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل کا آغاز کیا۔ سلمان صفدر نے کہا کہ ہمیں یہ نہیں معلوم کہ آپ کے سامنے جو فائل ہے اس کے اندر کیا ہے، ریمانڈ کے دوران کیا کچھ پوچھا گیا کیا لکھا گیا اس کی کاپیاں ہمیں فراہم کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ شہباز گل نے جو تقریر کی اس کا کچھ حصہ لے کر مقدمہ درج کیا گیا، شہباز گل کی تقریر کا عوامی ردعمل آنے دیا جاتا کہ یہ بغاوت ہے یا نہیں پھر پولیس مقدمہ درج کرتی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی اجازت کے بغیر بغاوت کا مقدمہ درج نہیں کیا جا سکتا، عدالت پراسیکیوشن سے معلوم کرے کہ کیا وفاقی کابینہ کی اجازت لی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہاں پچھلی تاریخوں میں بہت سی چیزیں کر دی جاتی ہیں اس لئے عدالت کے سامنے رکھ رہا ہوں، موقع سے جو گرفتار ہوا اس کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ ملا، پراسیکیوشن کے مطابق شہباز گل نے اپنی تقریر تسلیم کر لی، پھر باقی کیا رہا؟

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پراسیکیوشن زیادہ زور دے رہی ہے کہ شہباز گل نے کسی کے کہنے پر تقریر کی، اینکرز روزانہ سیاسی رہنماؤں کو ٹی وی پر بلاتے ہیں اور وہ روزانہ بولتے ہیں، کچھ چیزیں غلط تو ہو سکتی ہیں لیکن وہ بغاوت، سازش یا جرم میں نہیں آتیں۔

دونوں جانب سے دلائل مکمل ہونے کے بعد جج زیبا چوہدری نے کہا ہے کہ جسمانی ریمانڈ کی اپیل پر فیصلہ 3 بجے سنایا جائے گا۔ واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایڈیشنل سیشن جج کو جسمانی ریمانڈ کی پولیس نظرثانی درخواست دوبارہ سن کر فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

وزیرداخلہ پنجاب

قبل ازیں وزیر داخلہ پنجاب ہاشم ڈوگر نے اپنے بیان میں دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ شہباز گل کا جوڈیشل ریماند کینسل ہوجائے اور انہیں دوبارہ اسلام آباد پولیس کے حوالے کردیا جائے۔

جوڈیشل ریمانڈ

یاد رہے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ عمر شبیر نے پولیس کی جانب سے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ میں 11 روز کی توسیع کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا۔

شہباز گل کا متنازع بیان

واضح رہے کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے نجی ٹی وی چینل اے آر وائے نیوز کو اپنے شو میں سابق وزیرِا عظم عمران خان کے ترجمان شہباز گل کا تبصرہ نشر کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ان کا بیان مسلح افواج کی صفوں میں بغاوت کے جذبات اکسانے کے مترادف تھا۔

اے آر وائے کے ساتھ گفتگو کے دوران ڈاکٹر شہباز گل نے الزام عائد کیا تھا کہ حکومت، فوج کے نچلے اور درمیانے درجے کے لوگوں کو تحریک انصاف کے خلاف اکسانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج میں ان عہدوں پر تعینات اہلکاروں کے اہل خانہ عمران خان اور ان کی پارٹی کی حمایت کرتے ہیں جس سے حکومت کا غصہ بڑھتا ہے۔

انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کا اسٹریٹجک میڈیا سیل پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور مسلح افواج کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کے لیے غلط معلومات اور جعلی خبریں پھیلا رہا ہے۔

Tabool ads will show in this div