استاد نصرت فتح علی خان کے شاندار گانے

مداح آج ان کی 25ویں برسی منارہے ہیں

قوالی کے بے تاج بادشاہ استاد نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 25 برس بیت گئے، انہوں نے کئی خوبصورت گیت اور قوالیاں کمپوز کیں۔

لیجنڈری قوال استاد نصرت فتح علی خان اپنی موت کے 25 سال بعد آج بھی برصغیر پاک و ہند میں ایک بڑا اور مُنفرد اثر رکھتے ہیں۔

کنگ آف قوالی استاد نصرت فتح علی خان 13 اکتوبر 1948ء کو فیصل آباد کی ایک قوال فیملی میں پیدا ہوئے۔

ان کے گائے گئے گیت اب بھی مداحوں اور نوجوانوں میں زندہ ہیں اور آنے والی نسلوں کیلئے قوالی کے فن کا بہترین نمونہ ہیں۔

ان کے چند سُپرہٹس گانے مندرجہ ذیل ہیں۔

آفریں آفریں

یہ افسانوی غزل 1996ء میں سنگم البم کا حصہ تھی، اسے جاوید اختر نے لکھا اور نصرت فتح علی خان نے کمپوز کیا، اس گانے کو سال 2016ء میں کوک اسٹوڈیو میں راحت فتح علی خان اور مومنہ مستحسن کے ساتھ دوبارہ بنایا گیا تھا۔

میرے رشک قمر

انہوں نے 1988ء میں پہلی بار بھتیجے راحت فتح علی خان کے ساتھ یہ گانا گایا۔ اس نے بہت مقبولیت حاصل کی اور اسے ہر کنسرٹ میں گایا گیا۔

کسے دا یار نہ بچھڑے

نصرت فتح علی خان کا مشہور زمانہ گانا بھارتی کمپوزرز ندیم شراون نے بالی ووڈ فلم میں بھی شامل کیا۔

سانوں اک پل چین نہ آوے

نصرت فتح علی خان کی کمپوزیشن میں شامل یہ گانا بھی ندیم شراون نے بھارتی فلم میں شامل کیا۔

یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے

فلم ‘فنے خان’ 2018ء میں دوبارہ بنایا گیا یہ گانا اصل میں سال 1992ء میں نصرت فتح علی خان کی آواز میں ریلیز ہوا تھا۔

سوچھتا ہوں کہ وہ کتنے معصوم تھے

یہ گانا استاد نصرت فتح علی خان نے 1985ء میں اپنے دورہ یورپ کے دوران گایا۔

استاد نصرت فتح علی خان 16 اگست 1997ء کو 48 سال کی عمر میں انتقال کرگئے تھے۔

پاکستان

Ustad Nusrat Fateh Ali Khan

Tabool ads will show in this div