عظیم گلوکار اور قوال استاد نصرت فتح علی خان کو بچھڑے 25 برس بیت گئے

اردو کو نا سمجھنے والے غیرملکی بھی انکی قوالیوں کے مداح ہیں

قوالی کے شہنشاہ استاد نصرت فتح علی خان کو ہم سے بچھڑے 25 برس بیت گئے، وہ 16 اگست 1997ء کو اپنے کروڑوں مداحوں کو سوگوار چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوگئے تھے۔

کانوں میں رس گھولنے والی آواز Ustad Nusrat Fateh Ali Khan کی پہچان تھی، انہوں نے مشرقی موسیقی میں نت نئے تجربات کیے اور اپنی منفرد آواز کی بدولت دنیا کے کئی ممالک میں پذیرائی حاصل کی، اردو زبان کو ناسمجھنے والے غیرملکی بھی انکی قوالیوں کے مداح ہیں۔

لیجنڈ موسیقار نصرت فتح علی خان 13 اکتوبر 1948ء کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے، ان کے والد استاد فتح علی خان بھی موسیقار، گلوکار، قوال اور کئی سازوں پر عبور رکھتے تھے۔

نصرت فتح علی خان کا نام سب سے زیادہ 125 قوالی کی البم کے ساتھ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی شامل ہے۔

استاد نصرت فتح علی خان کی 25 ویں برسی انکے بھتیجے اور پاکستان کے معروف گلوکار راحت فتح علی خان اپنے ٹوئٹرپیغام میں انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اپنی ایک زندگی میں کئی زندگیاں جی لیے اور دنیا سے جانے کے بعد بھی آپ اپنی موسیقی اور اپنی خاندانی میراث کے ذریعے زندہ ہیں، آپ کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

استاد نصرت فتح عی خان کا ہر گانا ہی لاجواب ہے لیکن چند مشہور گانے جن میں کنا سوہنا تینوں، پِیا رے پِیا رے، غم ہے یا خوشی، میرا پیا گھر آیا، دم مست قلندر، آفریں آفریں اور دیگر گانے انکی پہچان ہیں۔

نصرت فتح علی خان کو حکومت پاکستان کی جانب سے شعبہ موسیقی میں شاندار خدمات کے اعتراف میں پرائڈ آف پرفارمنس کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

musician

Ustad Nusrat Fateh Ali Khan

shehansah-e-Qawwali

25th Anniversary

Tabool ads will show in this div