حمزہ شہباز کو پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بنانے کا فیصلہ

اتحادیوں نے بھی فیصلے کی حمایت کردی

پاکستان مسلم لیگ نواز (ن) نے حمزہ شہباز ( Hamza Shahbaz ) کو پنجاب اسمبلی ميں قائد حزب اختلاف بنانے کا فیصلہ کيا ہے، اس سلسلے میں پارلیمانی پارٹی کی جانب سے فیصلے کی توثيق بھی کردی گئی ہے۔

ن لیگ کے ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ نواز (ن) کی پارلیمانی پارٹی میں حمزہ شہباز کو قائد حزب اختلاف بنانے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا۔

پنجاب اسمبلی ( Punjab Assembly ) میں آج باضابطہ طور پر حمزہ شہباز کا نام پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ فیصلے پر مسلم لیگ ن نے اتحادی جماعتوں سے بھی مشاورت مکمل کرلی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز (ن ) پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کی اکثریتی جماعت ہے۔ اتحادی بھی حمزہ شہباز کے نام پر رضا مند ہوگئے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حمزہ شہباز ان دنوں نجی دورے پر لندن میں موجود ہیں، جہاں انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے بھی ملاقات کی۔

پنجاب اسمبلی کے ایوان میں اراکین کی کل تعداد 371 ہے۔ پنجاب میں اس وقت سامنے آنے والی پارٹی پوزیشن کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے اسمبلی میں پہلے 163 ممبران تھے لیکن ضمنی الیکشن میں 15 نشستیں حاصل کرنے سے اس کے ارکان کی تعداد 178 ہوگئی ہے۔

پنجاب میں پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت (ق) لیگ کے کل 10 ارکان ہیں جس کے بعد دونوں جماعتوں کے پنجاب اسمبلی میں اس وقت مجموعی طور پر 188 ارکان ہیں۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کےپہلے پنجاب اسمبلی میں 164 ارکان تھے لیکن ضمنی الیکشن میں 4 نشستیں لینے کے بعد اب اس کے ارکان کی تعداد 168 ہوگئی ہے۔

اس کےعلاوہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کے 7 ارکان ہیں جب کہ 3 آزاد ارکان اور ایک رکن راہِ حق پارٹی کا ہے جس کے بعد (ن) لیگ کے اتحادیوں کے ساتھ کل نمبر 179 ہیں۔

17 جولائی کو ہونے والے ضمنی الیکشن میں ایک آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوا ہے جب کہ رکن پنجاب اسمبلی چوہدری نثار غیر فعال ہیں۔

پنجاب اسمبلی کے 371 کے ایوان میں (ن) لیگ کے 2 ارکان کے استعفوں کے بعد اس وقت بھی 2 نشستیں خالی ہیں

PUNJAB ASSEMBLY

HAMZA SHEHBAZ

PDM

Tabool ads will show in this div