پی ٹی آئی کےاستعفوں کی منظوری کا معاملہ،اسپیکرآفس کوجواب کیلئے مہلت مل گئی

جج نہ رہیں تو بھی انکے فیصلے کالعدم نہیں ہوں گے

اسلام آباد ہائی کورٹ نے استعفوں کی مرحلہ وار منظوری کیخلاف تحریک انصاف کی درخواست پر اسپیکر قومی اسمبلی کو جواب کیلئے ایک ہفتے کا وقت دے دیا ہے۔

قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ اسپیکر آفس صرف یہ بتا دے کہ ڈپٹی اسپیکر کی طرف سے استعفوں کی منظوری کا آرڈر درست تھا یا نہیں۔

منگل 16 اگست کو پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کی درخواست کی سماعت کے آغاز پر اسپیکر قومی اسمبلی کے نمائندے نے عدالت کے روبرو جواب داخل کرانے کیلئے مہلت دینے کی استدعا کی۔ اس موقع پر قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ ساری دنیا کو یہ درخواست دائر ہونے کا پتا ہے لیکن اسپیکر آفس بے خبر ہے۔

قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ درخواست کے ساتھ اُس وقت کے ڈپٹی اسپیکر کے آرڈر منسلک کئے گئے ہیں۔ اسپیکر آفس صرف یہ بتا دے کہ استعفے منظور ہونے والا وہ آرڈر درست ہے یا نہیں؟ اگر آرڈر درست ہے تو نشستیں خالی قرار دیکر نئے الیکشن کرائیں۔

جسٹس عامر فاروق نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ جج نہ رہیں تو بھی ان کے فیصلے کالعدم نہیں ہوں گے۔ اسی طرح ادارے چلتے اور آگے بڑھا کرتے ہیں۔

اس موقع پر تحریک انصاف کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ ایک سو تئیس مستعفی ارکان میں سے کسی ایک نے بھی اپنے استعفے کو چیلنج نہیں کیا۔

جواباً جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ تو نو حلقوں کے ضمنی الیکشن رکوانے کیلئے یہاں آئے ہوئے ہیں۔ فیصل چوہدری نے فوری جواب دیا کہ تحریک انصاف نے نو حلقوں پر ضمنی الیکشن رکوانے نہیں بلکہ ایک سو تئیس حلقوں میں ایک ساتھ الیکشن کرانے کیلئے درخواست دے رکھی ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمان میں عوام کا ایک دن بھی نمائندگی سے محروم ہونا افسوسناک ہے۔

اس موقع پر عدالت نے اسپیکر آفس کو جواب داخل کرانے کیلئے مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

PTI

ISLAMABAD HIGH COURT

Tabool ads will show in this div