نواز شریف ستمبر میں واپس آرہے ہیں، ن لیگی رہنماء کا دعویٰ

پاکستانی سیاست میں ’’برابری کا میدان‘‘ ناممکن ہے، جاوید لطیف

وفاقی وزیر جاوید لطیف نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف قوم کی نمائندگی کیلئے ستمبر میں پاکستان آرہے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے رہنماء اور وفاقی وزیر جاوید لطیف نے لاہور میں پیر کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی عدم موجودگی میں پاکستانی سیاست میں ‘‘برابری کا میدان’’ ناممکن ہے، عوام بھی نوازشریف کی واپسی کے خواہشمند ہیں، قوم کی نمائندگی کیلئے وہ ستمبر میں وطن واپس آرہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن اپنے پارٹی سربراہ کو واپسی پر جیل واپس نہیں جانے دے گی، نواز شریف کی واپسی آسان بنانے کیلئے حکومت متعلقہ قانون سازی پر غور کر رہی ہے، جماعت کو لگتا ہے کہ ان سے ‘‘ناانصافی’’ کی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تین مرتبہ کے وزیراعظم کو سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی ہدایات پر نااہل قرار دیا گیا تھا۔

جاوید لطیف نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنایا اور سوال کیا کہ کیا جنہوں نے نواز شریف کو ‘‘ہٹایا’’ تھا اور عمران خان کے اقتدارمیں آنے میں سہولت فراہم کی تھی، انہوں نے ابھی تک سبق نہیں سیکھا، عمران خان کو اب بھی ‘‘چند لوگوں’’ کی حمایت حاصل ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ مسلم لیگ ن چاہتی ہے کہ سیاستدانوں سمیت تمام ادارے اپنی قانونی اور آئینی حدود میں رہ کر کام کریں۔

واضح رہے کہ عدالتِ عالیہ لاہور نے میاں نواز شریف کو نومبر 2019ء میں 4 ہفتے کیلئے لندن جانے کی اجازت دی تھی، تاہم وہ آج تک لندن میں مقیم ہیں اور ایک طرح سے خودساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

وہ طبی بنیادوں پر لندن روانگی سے قبل العزیزیہ بدعنوانی کیس میں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں 7 سال کی قید کاٹ رہے تھے۔

میاں نواز شریف کے پاسپورٹ کی میعاد فروری 2021ء میں ختم ہوچکی ہے تاہم موجودہ وزیراعظم میاں شہباز شریف کی حکومت نے رواں سال اپریل میں انہیں نیا پاسپورٹ جاری کردیا تھا۔

Nawaz Sharif

JAVED LATIF

PMLN,

Tabool ads will show in this div