طالبان کی قید میں رہنے والے آسٹریلوی پروفیسر کی یوم فتح منانے کابل آمد

پروفیسر جبرائیل عمر نے دوران قید اسلام قبول کیا تھا

طالبان کی قید میں اسلام قبول کرنے والے آسٹریلوی پروفیسر طالبان حکومت کے ایک سال مکمل ہونے پر ہونے والے مرکزی تقریب میں شرکت کےلیے کابل میں موجود ہیں۔

آسٹریلوی پروفیسر جبرائیل عمر (سابقہ نام ٹموتھی ویکس) افغانستان میں امارت اسلامیہ کی حکومت قیام کا ایک سال مکمل ہونے کی خوشی میں کابل پہنچ گئے اور طالبان حکومت کو اپنی حمایت کا یقین دلایا۔

طالبان کی قید میں اسلام قبول کرنے والے جبرائیل عمر جب کابل ایئرپورٹ پر اترے تو ان کے پارٹی پر سفید داڑھی سجی تھی، وہ سفید قمیص شلوار اور واسکٹ زیب تن قندھاری پگڑی باندھی تھی۔

صحافیوں سے گفتگو میں پروفیسر جبرائیل عمر نے بتایا کہ اپنے سفر کا دوسرا حصہ مکمل کرنے اور اس کے سرزمین پر طالبان حکومت قیام کے سال مکمل ہونے کی خوشی منانے افغانستان آئے۔

جبرائیل عمر (ٹموتھی ویکس) کو اگست 2016 میں طالبان نے کابل کی امریکی یونیورسٹی کے مرکزی دورازے سے اغوا کیا تھا اور ساڑھے 3 سال تک طالبان کی قید میں رہنے کے بعد دوحہ معاہدے کے نتیجے میں ان کی رہائی سنہ 2019 میں انس حقانی اور خلیل حقانی سمیت طالبان کے تین اہم کمانڈروں کے بدلے ہوئی تھی۔

وہ کابل کی امریکی یونیورسٹی میں انگریزی کے استاد تھے۔ انھیں افغان پولیس افسران کو انگریزی سکھانے کے لیے ایک نصاب تیار کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کو ایک انٹرویو میں جبرائیل عمر کا کہنا تھا کہ مجھے اب طالبان کے ہاتھوں اغوا ہونے پر کوئی افسوس نہیں کیونکہ اگر یہ نہ ہوا ہوتا تو میں اسلام کو ایک حقیقت کے طور پر نہ جان پاتا۔

یاد رہے کہ طالبان نے گزشتہ برس 15 اگست کو افغانستان کے آخری معرکے کابل کو بھی فتح کرکے اپنی حکومت کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ طالبان حکومت نے 15 اگست کو عام تعطیل اور اس دن کو یوم فتح کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے۔

افغانستان

AFGHAN TALIBAN

Tabool ads will show in this div