سعودی عرب پاکستان کا 3ارب ڈالر قرض کی تجدید پر رضامند

پاکستان کو گرتے ہوئے زرمبادلہ ذخائر بڑھانے میں مدد ملے گی

سعودی عرب نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس جمع کرائے گئے 3 ارب ڈالر کے قرض کی تجدید پر رضامندی ظاہر کردی۔ جس سے پاکستان کو اپنے گرتے ہوئے غیر ملکی ذخائر کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔ یہ رپورٹ بلومبرگ اور فنانشل ٹائمز نے پیر کو شائع کی ہے۔

دونوں جرائد نے اس معاملے سے باخبر افراد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی وزارت خزانہ ماہانہ 10 کروڑ ڈالر 10 ماہ تک فراہم کریگی، یہ امداد اضافی معاونت کے طور پر دی جائے گی۔

بلومبرگ کا کہنا ہے کہ سعودی وزارت خزانہ کا رواں ہفتے ہی اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں اپنے 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی تجدید کرنے کا ارادہ ہے۔

قرضوں کی ری فنانسنگ کی اطلاعات سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان ٹیلی فون پر ہونیوالی بات چیت کے بات سامنے آئی ہیں۔

سعودی پریس ایجنسی کی پیر کو جاری رپورٹ کے مطابق محمد بن سلمان کو اتوار کے روز شہباز شریف نے فون کیا تھا، جس میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان برادرانہ و تاریخی تعلقات کا جائزہ لینے کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے مواقع مزید بڑھانے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا۔

سماء ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی دورہ پاکستان کی دعوت قبول کرلی۔

آئی ایم ایف پروگرام پر اثرات

قرض کی تجدید کے سعودی فیصلے سے پاکستان کو آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط حاصل کرنے میں مدد ملے گی، آئی ایم ایف بورڈ رواں ماہ ادائیگی کی منظوری کیلئے میٹنگ کرنے والا ہے۔

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے گزشتہ ماہ اپنے قرضہ پیکیج کو ایک ارب ڈالر اضافے سے 7 ارب ڈالر کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی، لیکن عالمی ادارے نے رقم کی فراہمی پاکستان کو کسی اور جگہ سے اضافی مالی اعانت ملنے سے مشروط کردی تھی۔

ایک سینئر پاکستانی اہلکار نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ سعودی عرب نے پاکستان کے اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اپنے 3 ارب ڈالر کی تجدید پر رضامندی ظاہر کردی ہے، جس سے آئی ایم ایف کے قرضے کو بحال کرنے میں مدد ملے گی۔

برٹش ڈیلی کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی اہلکار نے بتایا ہے کہ پاکستان، آئی ایم ایف اور سعودی عرب نے اس امکان پر بھی بات کی ہے کہ فنڈز میں ریاض کے خصوصی ڈرائنگ رائٹس (ایس ڈی آر) کے کوٹے کے بدلے 2.8 ارب ڈالر تک کا قرض لے سکتا ہے۔

اہلکار کا کہنا ہے کہ ایک بار یہ طے ہونے کے موجودہ مالی سال (جولائی 2022ء سے جون20232ء) کے دوران پاکستان کی آئی ایم ایف سے قرض لینے کی حد 2 ارب 80 کروڑ ڈالر تک بڑھ جائے گی جو ایک بہت اہم پیشرفت ہوگی۔

پاکستان

SAUDIA ARABIA

Loan Program

IMF PAKISTAN

Tabool ads will show in this div