بلوچستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری، اموات 197 تک پہنچ گئیں

کئی دیہات ڈوب گئے، امدادی کارروائیاں جاری

بلوچستان کے ضلع کوہلو میں مون سون بارشوں سے 3 دیہات مکمل طور پر ڈوب گئے، ضلع دکی میں مدرسے کے بچوں نے چھت پر پناہ لے کر جانیں بچائیں، صوبے میں جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 197 تک پہنچ گئی ہے۔

بلوچستان میں مون سون بارشوں کے چوتھے اسپیل نے تباہی مچادی، ضلع کوہلو میں نیصوبہ ڈیم اوور فلو ہونے کی وجہ سے کلی جمعہ، بلاول ٹاؤن، کلی اوریانی مکمل طور پر ڈوب گئے، ضلع دکی کے علاقے لونی کو بھی سیلاب نے متاثر کیا، مدرسے کے بچوں نے چھت پر پناہ لیکر جانیں بچائیں۔

پی ڈٰی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق سیلاب کے باعث مزید 9 افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد مجموعی اموات 197 تک پہنچ گئیں، 85 افراد زخمی ہیں۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ 19 ہزار 762 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں، وزیراعلیٰ بلوچستان کہتے ہیں کہ ڈیموں کے نقصان کی تحقیقات جاری ہیں، غفلت پر ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔

مشیر داخلہ و پی ڈی ایم اے ضیاء لانگو کہتے ہیں کہ وفاق اور صوبائی حکومت کی جانب سے امدادی چیک متاثرین میں تقسیم کئے جارہے ہیں۔

پی ڈٰی ایم اے حکام کا کہنا ہے کہ متاثرین کو اب تک 21 ہزار 500 ٹینٹ، 31 ہزار خوراک کے پیکٹ فراہم کئے جاچکے ہیں۔

Monsoon Rain

BALOCHISTAN FLOOD

Tabool ads will show in this div