نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کو کرپشن کے الزامات پر مزید 6 سال قید

خاتون رہنما کو سنائی گئی مجموعی سزاؤں کی مدت 17 برس ہوگئی

میانمار کی عدالت نے نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کو بدعنوانی کے الزامات میں مزید 6 سال قید کی سزا سنادی۔ سوچی کے خلاف الزامات کی سماعت گزشتہ برس شروع ہوئی تھی۔ قانونی کارروائیاں بند کمرے میں ہورہی ہیں اور بین الاقوامی برادری نے ان کی نکتہ چینی کی ہے۔

آنگ سان سوچی کو ابتک مختلف مقدمات میں مجموعی طور پر 17 سال کی سزا سنائی جاچکی ہے، ان پر جتنے الزامات لگائے گئے ہیں ان کے تحت مجموعی طورپر 150بر س سے زیادہ کی قید میں گزارنے پڑسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ یکم فروری 2021 کو میانمار کی فوج نے حکومت کا تختہ الت کر اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا، سوچی کی پارٹی نے گزشتہ عام انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کی تھی لیکن فوج کا کہنا ہے کہ الیکشن میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے۔

آنگ سان سوچی کی قانونی ٹیم پر بھی کئی طرح کی پابندیاں عائد ہیں اور انہیں پریس کے ساتھ بات چیت کرنے کی آزادی نہیں ہے۔

ایک نگران گروپ کے مطابق فوج کی جانب سے اقتدار پر قبضے کے بعد ملک میں احتجاج کو کچلنے کیلئے طاقت کے استعمال سے تقریباً 1800 لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔

myanmar

corruption Cases

Aung San Suu Kyi

Nobel Prize

Tabool ads will show in this div