افغانستان میں طالبان حکومت کا ایک سال

15 اگست 2021 کو اشرف غنی کے ملک سے فرار ہونے کے بعد طالبان کابل میں داخل ہوئے تھے

افغانستان پر طالبان کے قبضے کو آج ایک سال مکمل ہوگیا ہے۔

15 اگست 2021ء کو طالبان نے دارالحکومت کابل کا محاصرہ کرلیا تو اس وقت کے صدر اشرف غنی اچانک ملک سے فرار ہوگئے جس کے بعد طالبان نے بغیر کسی مزاحمت کے کابل میں داخل ہوکر ملک کا کنٹرول سنبھال لیا۔

طالبان نے مذاکرات میں امریکا کو انخلا کیلئے 31 اگست 2021 کی ڈیڈ لائن دی تھی اور امریکی فوج نے 31 اگست کی ڈیڈ لائن سے پہلے ہی انخلاء مکمل کرلیا اور 20 سال بعد افغانستان سے امریکی قبضہ ختم ہوگیا۔

امریکی انخلاء مکمل ہونے کے بعد طالبان نے کابل ایئر پورٹ کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا جس کے بعد امریکا کے قبضے میں موجود افغانستان کا آخری علاقہ بھی طالبان کے کنٹرول میں آگیا۔

طالبان کی جانب سے کابل پر قبضے کے بعد ملک میں افرا تفری پھیل گئی اور ہزاروں شہری خوفزدہ ہوکر ملک سے فرار ہونے کیلئے کابل ائير پورٹ پر جمع ہوگئے، اس دوران بھگدڑ اور فائرنگ کے نتیجے میں متعدد افراد کی جانیں بھی گئیں۔

کابل ایئرپورٹ پر امریکی انخلا کے دوران انتہائی دردناک مناظر دیکھنے میں آئے جب شہری ملک سے بھاگنے کیلئے چلتے جہاز پر لٹک گئے اور بلندی سے گر کر ہلاک ہوگئے، ہزاروں شہری بغیر دستاویزات جہازوں جاگھسے اور بیرون ملک پہنچ گئے۔

اقتدار حاصل کرنے کے بعد طالبان نے عام معافی کا اعلان کیا اور ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اسلامی امارت افغانستان آج سے کسی کے ساتھ دشمنی نہیں رکھے گی۔

ترجمان طالبان نے کہا ہماری فتح پوری افغان قوم کی فتح ہے، آزادی ہر قوم کا بنیادی حق ہے اور 20 سال بعد ہم نے افغانستان کو طویل جنگ کے بعد آزاد کردیا ہے۔

طالبان کا ایک سال کیسا رہا؟

طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ملک میں امن و امن کی صورتحال میں بہتری آئی ہے اور پرتشدد واقعات کا سلسلہ تھم چکا ہے لیکن ملک اقتصادی مشکلات سے دوچار ہے۔

معاشی مسائل:

بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کی 38 ملین آبادی انتہائی غربت سے دوچار ہے، بین الاقوامی امداد کی بندش نے ملکی معیشت کو مزید ابتر کردیا ہے اور امریکا نے بھی افغانستان کے اثاثے منجمد کررکھے ہیں جس کی وجہ سے طالبان حکومت کو معاشی مسائل کا سامنا ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ افغانستان کی معیشت پہلے ہی دو دہائیوں کے جنگی حالات اور داخلی انتشار کی وجہ سے کمزور تھی تاہم اب افغانستان کی معاشی صورتحال میں بتدریج بہتری شروع ہوگئی ہے۔

خواتین پر پابندیاں:

طالبان نے ابتدا میں سخت ترین پابندیوں میں نرمی لانے کا وعدہ کیا تھا لیکن مئی میں طالبان حکومت نے عورتوں کو پورا چہرہ ڈھانپنے کا حکم دیا۔

ہزاروں لڑکیوں کو سیکنڈری اسکول چھوڑنے پڑے جبکہ خواتین کو بہت ساری سرکاری ملازمتوں میں واپس لوٹنے سے روک دیا گیا، طالبان قیادت بھی تک لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کرسکی ہے۔

طالبان کی جانب سے خواتین کو مخصوص نوکریوں کے علاوہ دیگر ملازمتوں میں کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ طالبان کی جانب سے خواتین کا تنہا سفر کرنا بھی ممنوع ہے۔ ان کے ساتھ مرد کا ہونا ضروری ہے۔ خواتین صرف مخصوص دنوں میں ہی پارکوں اور عوامی تفریحی مقامات کا دورہ کر سکتی ہیں۔

سفارتی تعلقات:

طالبان نے اقتدار میں آنے کے بعد اپنے تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم رکھے ہیں لیکن اسکے باوجود ابھی تک کسی بھی ملک نے باضابطہ طور پر طلبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔

طالبان رہنماؤں کی جانب سے مختلف ممالک کا دورہ کرکے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی جارہی اور انہوں نے مختلف ممالک کو افغانستان کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم کرنے اور انفراسٹرکچر کی تعمیر پر قائل کیا ہے۔

طالبان نے کالعدم ٹی ٹی پی کے معاملے میں بھی پاکستان کو مدد فراہم کی ہے اور یہ بات واضح طور کہی ہے کہ انکی سرزمین پاکستان یا کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔

افغانستان

KABUL

AFGHAN TALIBAN

TALIBAN VICTORY

KABUL FALL

Tabool ads will show in this div