موہاٹہ پیلس میں میڈیکل گرلزکالج کےقیام سےمتعلق فریق بننےکی درخواستوں پرفیصلہ محفوظ

میڈیکل کالج بنانے پر علاقہ مکینوں کے اعتراض کا کوئی جواز نہیں۔

سندھ ہائیکورٹ نے موہاٹہ پیلس میں میڈیکل گرلزکالج کےقیام سے متعلق فریق بننے کی درخواستوں پرفیصلہ محفوظ کرلیا۔

موہاٹہ پیلس گیلری ٹرسٹ اورعلاقہ مکینوں کی فریق بننے کی درخواستوں کی سماعت ہوئی۔

جسٹس ذوالفقارعلی نےریمارکس دیے کہ محترمہ فاطمہ جناح نےموہاٹہ پیلس کوکالج بنانےکی وصیت کی تھی،محترمہ فاطمہ جناح سےغلطی ہوگئی جوانہوں نے یہ سوچا تھا۔

علاقہ مکینوں کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ رہائشی پلاٹ پر کمرشل سرگرمیاں نہیں ہوسکتیں۔

عدالت نے مزید ریمارکس دئیے کہ کل آپ کہیں گے انہوں پاکستان بنا کر بھی غلطی کردی،کیامحترمہ فاطمہ جناح کی وصیت پرعمل نہیں ہوناچاہئے؟۔

درخواست گزارکےوکیل ایڈوکیٹ خواجہ شمس الاسلام نے بتایا کہ محترمہ فاطمہ جناح کی زیراستعمال اشیاء اور قیمتی سامان کو برباد کردیا گیا،صوبائی حکومت نے غیرقانونی ٹرسٹ بنا کر موہاٹہ پیلس حوالے کردیا۔

درخواست گزارکےوکیل نے یہ بھی کہا کہ مسلسل کمرشل سرگرمیوں پرعلاقہ مکینوں نے کوئی اعتراض نہیں کیا، میڈیکل کالج بنانے پر علاقہ مکینوں کے اعتراض کا کوئی جواز نہیں۔

سندھ ہائیکورٹ میں سماعت 30 اگست تک ملتوی کردی۔

موہاٹہ پیلس کی تاریخ :۔

اس پیلس کا ڈیزائن آغا احمد حسین نے تیار کیا۔ ان کا شمار برصغیر کے پہلے مسلم آرکیٹیکٹ میں ہوتا ہے۔ یہ عمارت 18500 مربع فٹ رقبے پر تعمیر کی گئی۔ اس عمارت کے سامنےوالے حصے میں خوبصورت کھڑکیاں،محرابیں،پتھروں کے کنارے،چھوٹے گنبد اور دلکش ریلنگس ہیں۔

کراچی کے معروف تاریخ دان عثمان ڈموہی نے اپنی کتاب کراچی تاریخ کے آئینے میں ،درج کیا ہے کہ یہ پیلس شیورتن موہٹہ کے لیے تعمیر کیا گیا۔ شیورتن ماروڑی کاروباری شخصیت تھے۔انھوں نے پٹیالہ طرز کی عمارت تعمیر کروائی۔ آرکیٹیکٹ آغا احمد حسین نے جے پور سے آکر یہ عمارت ڈیزائن کی۔

عمارت کی تعمیر میں مغل فن تعمیر کے انداز کو پیلے گزری اسٹون میں ڈھالا گیا اور جودھپوری پنک اسٹون کا بھی اس میں استعمال کیا گیا۔

پیرزادہ سلمان نے اپنی کتاب کراچی:لیگیسیز آف ایمپائرز میں بتایا ہے کہ شیورتن موہٹہ کی اہلیہ بیمار تھیں اور ڈاکٹرز نے انھیں مشورہ دیا تھا کہ سمندر کی تازہ ہوا ان کی صحت کے لیے مفید رہے گی۔

موہٹہ پیلس محکمہ اوقاف کی جانب سے ثقافتی ورثہ قراردئیے گئے مقامات میں شامل ہے۔ فاطمہ جناح کے انتقال کے بعد یہ عمارت ان کی بہن شیریں جناح کو منتقل ہوگئی اور انھوں نے وہاں رہائش اختیار کی۔ ان کے انتقال کے بعد یہ عمارت ٹرسٹیز کے نام منتقل ہوگئی اور ان کے درمیان تنازع شروع ہوا۔سال 1971 میں یہ عمارت سیل کردی گئی۔

عمارت سندھ حکومت کو فروخت کی گئی:۔

سال 1993 یا 1994 میں سندھ حکومت نے اس عمارت کے حصول کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔ سندھ ہائی کورٹ میں چیف جسٹس صبیح الدین احمد کی سربراہی میں بینچ نے حکم دیا کہ عمارت کے تخمینے کے بعد اس کو سندھ حکومت کو فروخت کردیا جائے۔اس وقت اس عمارت کی قیمت 68 لاکھ روپے تھی۔ تاہم یہ سوال تھا کہ یہ رقم کہاں سے آئے گی۔ اس وقت کی وزیراعظم بےنظیر بھٹو نے وزیراعلیٰ سندھ محمود ہارون سے اس سلسلے میں بات کی۔اس وقت سیکریٹری کلچر خواجہ شاہد حسین تھے۔ ٹرسٹیز نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا اور اس عمارت کو میوزیم میں تبدیل کرکےموہٹہ پیلس گیلری ٹرسٹ کا نام دیا گیا۔

سال 1947 کے بعد اس عمارت میں دفترخارجہ کے دفاتر قائم کئے گئے اور بعد میں اس میں فاطمہ جناح نے رہائش اختیار کرلی۔

اینڈومنٹ فنڈ ٹرسٹ کے تحت سندھ کے ثقافت ورثے ( موہٹہ پیلس ) کے تحفظ اور تعمیر نو کے لیے 1 کروڑ روپے مختص کئے گئے جس سے عمارت کی چھت کی مرمت اور لکڑی کا کام مکمل کیا گیا۔

SINDH HIGH COURT

MOHATTA PALACE

Tabool ads will show in this div