اسلام آباد ہائی کورٹ نے پنجاب پولیس کو عطا تارڑ کی گرفتاری سے روک دیا

عطا تارڑ کی 14روز کے لئے حفاظتی ضمانت منظور کرلی گئی

وزیراعظم کے معاون خصوصی عطاء تارڑ گرفتاری سے بچنے اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی عطاتارڑ نے پنجاب پولیس کی جانب سے ممکنہ گرفتاری سے بچنے کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا۔

عطاء تارڑ نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے استدعا کی ہے کہ پولیس نے گرفتاری کے لیے رہائش گاہ پر چھاپہ مارا، پنجاب پولیس کو میری گرفتاری سے روکا جائے، اور حفاظتی ضمانت منظور کی جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعظم کےمعاون خصوصی عطاتارڑکی حفاظتی ضمانت منظور کرلی، اور پنجاب پولیس کو عطاتارڑ کی گرفتاری سے روک دیا ہے۔

معاون خصوصی وزیراعظم عطا تارڑ کی 14روز کے لئے حفاظتی ضمانت منظورکی گئی ہے۔

وفاقی وزیر عطا تارڑ

پنجاب میں حمزہ حکومت ختم ہونے پر سابق ہوجانے والے صوبائی وزیر داخلہ عطاء اللہ تارڑ وفاقی کابینہ کا حصہ بن چکے ہیں۔

28 جولائی کو عطاء تارڑ کو وزیراعظم کا معاون خصوصی مقرر کردیا گیا تھا اور اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ان کا عہدہ وفاقی وزیر کے برابر ہوگا۔

عطا تارڑ کے گھر پولیس کا چھاپہ

ہفتہ 13 اگست کی صبح پنجاب پولیس کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی عطا اللہ تارڑ کی گرفتاری کیلئے ان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا، تاہم وہ گھر پر موجود نہیں تھے۔

پولیس کی جانب سے گھر پر مارے گئے چھاپے پر لیگی رہنما عطا اللہ تارڑ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ردعمل میں وزیر داخلہ پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہاشم ڈوگر صاحب میرا خیال تھا آپ وزیر ہیں، آپ تو انتہائی غیر سنجیدہ کردار نکلے۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ جس گھر میں 15سال پہلے رہتا تھا وہاں پولیس بھیج کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں، یہ حال ہے آپ کا، خاک وزارت چلانی ہے آپ نے، ملک دشمن بیانیے کے دفاع میں اتنا آگے نہ جائیں۔

چھاپے سے صرف ایک روز قبل یعنی 12 اگست کو لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس صفدر سلیم شاہد نے پنجاب پولیس کو لیگی رہنما رانا مشہود، عطا تارڑ اور ملک احمد خان کو ہراساں کرنے سے روکتے ہوئے آئی جی پنجاب سے آئندہ سماعت پر جواب طلب کیا تھا۔

Tabool ads will show in this div