دوبارہ جسمانی ریمانڈ کی حکومتی درخواست پرشہباز گل کو نوٹس جاری

کل تک جواب مانگ ليا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے دوبارہ جسمانی ریمانڈ کی حکومتی درخواست پرشہباز گل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کل تک جواب مانگ ليا ہے۔

اداروں کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے الزام ميں گرفتار تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد ہونے کے خلاف حکومتی درخواست پر سماعت ہوئی۔ قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے حکومتی درخواست پر سماعت کی۔

ايڈووکيٹ جنرل جہانگير جدون نے دلائل ميں مؤقف اختيار کيا کہ شہباز گل نے ٹی وی چینل پر ایک بیان دیا جس کا حکومت نے سخت نوٹس لے کر مقدمہ درج کرایا۔ شہباز گل نے جن اداروں کے خلاف بیان دیا ان کی بہت قربانیاں ہیں۔

قائم مقام چيف جسٹس نے استفسار کيا کہ آپ نے مزید جسمانی ریمانڈ میں کیا کرنا ہے؟۔

ايڈووکيٹ جنرل نے جواب ديا کہ لیپ ٹاپ اور دیگر ڈیوائسز ابھی نہیں ملیں، وہ ریکور کرنی ہیں اور چیزیں برآمد کرنے کیلئے مزید جسمانی ریمانڈ ضروری ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہباز گل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 16 اگست تک ملتوی کردی۔

شہبازگل کی مقدمہ خارج کرنے کی دخواست دائر

شہباز گل نے اپنے خلاف قائم مقدمہ خارج کرنے کی دخواست دائر کردی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا کہ میرے خلاف بدنیتی پر مبنی اور خلاف قانون مقدمہ درج کیا گیا۔

ملزم کے وکیل فیصل چوہدری دلائل شروع کرنے پر اصرار کرتے رہے، تاہم سرکاری وکیل نے ریکارڈ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہونے کی بنیاد پر دلائل سے گریز کیا۔

ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری نے سماعت میں تین مرتبہ وقفہ کیا، لیکن ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت میں فریقین کے دلائل شروع نہ ہوسکے۔

پولیس عدالت عالیہ سے ریکارڈ لانے میں ناکام رہی تو سماعت اگلے روز تک ملتوی کردی گئی۔ فریقین کے وکلاء کو اگلی سماعت پر دلائل دینے کا حکم دیتے ہوئے جج زیبا چوہدری نے خبردار بھی کردیا کہ منگل کو کوئی بہانہ نہیں سنا جائے گا۔

واضح رہے کہ دو روز قبل وفاقی حکومت نے ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد کے ذریعے تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کےجوڈیشل ریمانڈ سےمتعلق ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد کا فیصلہ چيلنج کرديا تھا۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ ماتحت عدالت کے فیصلے کالعدم قرار دے اور شہباز گل کا مزید جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔

درخواست ضمانت پر نوٹس جاری

شہباز گل کے وکلا کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ حکومت نے پی ٹی آئی کے ساتھ حساب برابر کرنے کے لیےجھوٹا مقدمہ درج کیا۔تفتیش میں پولیس شہباز گل پر کوئی الزام ثابت نہیں کرسکی۔ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے جھوٹی ایف آئی آر درج کی گئی۔

وکلا کی جانب سے استدعا کی گئی کہ شہباز گل کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کی جائے۔ عدالت نے پولیس اور پراسیکیوٹر کو پیر کے لیے نوٹس جاری کیا تھا۔

معاملے کا پس منظر

شہباز گل نے ملک کے ایک نجی نیوز چینل پر افواج پاکستان سے متعلق بات کی تھی جس کے بعد ان کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا، 9 اگست کو پی ٹی آئی رہنما شہباز گِل کو گرفتار کیا گیا۔

ماتحت عدالت نے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں جیل بھجوادیا تھا۔

SHAHBAZ GILL

Tabool ads will show in this div