اعجازجاکھرانی کی عبوری ضمانت مسترد

ریفری جج نے مشیر جیل خانہ جات کی عبوری ضمانت مسترد کی

عدالت نے کرپشن کے کیس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے مشیر جیل خانہ جات اعجازجاکھرانی کی عبوری ضمانت مسترد کردی ہے۔

دورکنی بینچ میں اختلاف کے باعث معاملہ ریفری جج جسٹس ندیم اختر کو بھیجا گیا تھا۔

جسٹس نظراکبر نےعبوری ضمانت کی توثیق کی جب کہ جسٹس فیصل کمال عالم نے اختلاف کیا تھا جس کے بعد معاملہ ریفری جج کو بھیجا گیا۔

ریفری جج نے مشیر جیل خانہ جات کی عبوری ضمانت مسترد کردی۔

مشیرجیل خانہ جات سندھ کےگھراکتوبر2020 میں چھاپے کے دوران مختلف فائلیں تحویل میں لی گئی تھیں۔اعجاز جاکھرانی کے گھر چھاپہ ان کے گرفتار کزن عباس جاکھرانی کی نشاندہی پر مارا گیا تھا۔

چھاپےکے دوران جیکب آباد کے بلدیاتی اداروں سے متعلق اہم ریکارڈ تحویل میں لیا گیا۔ نیب ٹیم نے اعجاز جاکھرانی کے اہل خانہ سے بھی پوچھ گچھ کی اور لاکرز سے متعلق سوالات کیے۔

نیب کے مطابق اعجاز جاکھرانی نے خیرپوراورجیکب آباد میں ترقیاتی اسکیموں میں کرپشن کی جس کی وجہ سے سرکاری خزانے کو 31 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا۔

سال 2020 کے اوائل میں وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے جیل خانہ جات اعجاز جاکھرانی کیخلاف قومی احتساب بیورو نے مقامی احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اعجاز جاکھرانی نے رکن قومی اسمبلی بننے کے بعد 73کروڑ 50 لاکھ مالیت کے آمدن سے زائد اثاثے بنائے۔

نیب کی جانب دائر کیے گئے ریفرنس میں دعویٰ کیا گیا کہ رکن قومی اسمبلی بننے کے بعد اعجاز جاکھرانی نے کراچی کے علاقے ڈی ایچ اے میں 150 ایکڑ زمین اور بنگلے خریدنے کے لیے 50کروڑروپے کی بینک ٹرانزیکشن کی۔

EJAZ JAKHRANI

Tabool ads will show in this div