ناروے نے “فریا” کو موت کے گھاٹ اتاردیا

فیصلہ انسانی جانوں کی حفاظت کیلئے کیا، نارویجین حکام

ناروے کی حکومت نے اپنی مشہور والرس ’’فریا“ کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

نارویجن کے مطابق والرس کو موت کے گھاٹ اتارنے کا فیصلہ انسانی جانوں کو لاحق خطرات کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

فریا بظاہر انسانوں سے خوفزدہ تھی، کئی بار اسے سن باتھ کیلئے چھوٹی کشتیوں پر چڑھتے دیکھا گیا تھا، گزشتہ ہفتے نارویجین حکام نے عوام کو تنبیہ کی تھی کہ وہ نقصان سے محفوظ رہنے کیلئے فریا سے دور رہیں جسے عوام نے ہوا میں اڑادیا۔

مقامی میڈیا کے مطابق لوگوں کو فریا کے ساتھ تیراکی کرتے، اس پر اشیاء پھینکتے اور تصاویر لینے کیلئے خطرناک حد تک قریب جاتے دیکھا گیا۔

نارویجن ڈائریکٹوریٹ آف فشریز کے مطابق عوام نے والرس سے فاصلہ رکھنے کی اپیل کو نظر انداز کیا جس کے باعث انسانی حفاظت کو لاحق خطرے کے مجموعی جائزے کی بنیاد پر فریا کو موت کے گھاٹ اتارنے کا فیصلہ کیا۔

حکام نے کہا ہمیں جانوروں کی فلاح و بہبود کا بہت خیال ہے لیکن انسانی جان کی حفاظت مقدم ہے۔ یہ جانور اس وقت تک کچھ نہیں کہتا جب تک اس سے فاصلہ رکھا جائے لیکن اگر اسکے قریب جایا جائے تو یہ خود کو خطرے میں سمجھ کر لوگوں پر حملہ کرسکتا ہے۔

گذشتہ ہفتے ناروے کی وزارت فشریز نے ایک تصویر شائع کی تھی جس میں لوگوں کو فریا کے اتنے قریب جمع تھے کہ اسے ہاتھ سے چھوا جاسکتا تھا اور اس میں بچے بھی شامل تھے۔

ناروے کی براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق فریا کو سب سے پہلے ملک کے شمال میں 2019 میں دیکھا گیا تھا جس کے بعد یہ برطانیہ، ڈنمارک، سویڈن اور نیدر لینڈ کے پانیوں میں بھی نظر آئی۔

norway

animal rights

walrus

freya

Tabool ads will show in this div