مسجد اقصیٰ کے قریب مسلح شخص کی فائرنگ سے 8 یہودی زخمی

زخمیوں میں امریکی شہری بھی شامل ہیں

مقبوضہ بیت المقدس میں فائرنگ کے واقعے میں کم از کم 9 یہودی زخمی ہوگئے۔

عبرانی میڈیا کے مطابق مقامی وقت کے مطابق صبح 1:24 بجے ایک فلسطینی نے مبینہ طور پر مسجد اقصیٰ کی مغربی دیوار کے قریب پارکنگ میں ایک بس اور پھر کاروں پر فائرنگ کی۔

اسرائیلی طبی ذرائع نے بتایا کہ ایمبولینس کے عملے نے متعدد اسرائیلیوں کو اسپتالوں میں منتقل کرنے سے قبل موقع پر طبی امداد فراہم کی جس میں تین کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔

واقعے کے فوراً بعد اسرائیلی فورسز نے مقبوضہ بیت المقدس میں کئی فلسطینیوں کے گھروں پر چھاپوں کے بعد فائرنگ کرنے والے سمیت کچھ فلسطینیوں کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے۔

سرچ آپریشن کے دوران پولیس نے پرانے شہر کو بند کر دیا، علاقے میں داخلے اور باہر نکلنے اور مغربی دیوار کے پلازہ تک دونوں راستے بند کر دیے۔ تلاشی میں پولیس کے ہیلی کاپٹروں نے بھی حصہ لیا جو تقریباً چھ گھنٹے تک جاری رہا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق زخمی ہونے والوں میں متعدد افراد امریکی ہیں، زخمی ہونے والے چار امریکی شہری نیویارک سے اسرائیل کا دورہ کرنے بدھ کو یہاں پہنچے تھے۔ یہ سب ایک ہی خاندان کے افراد ہیں۔

اسرائیل میں امریکی سفیر ٹام نائیڈز نے اتوار کی صبح ایک بیان میں تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس خبر کی تصدیق کرنے پر ’انتہائی دکھ‘ ہوا ہے، یروشلم میں امریکی سفارت خانے کے ترجمان نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دہشت گرد حملے کا نشانہ بننے والوں میں امریکی شہری بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے اسرائیلی فوج کی غزہ پر وھشیانہ بمباری کے نتیجے میں 50 کے قریب فلسطینی شہید جبکہ درجنوں زخمی ہوئے تھے جن میں متعدد بچے بھی شامل تھے جس کے بعد مصر کی مداخلت سے فریقین میں جنگ بندی کا نفاذ کیا گیا۔

Israel

OCCUPIED PALESTINE

JERUSALEM SHOOTING

Tabool ads will show in this div