دنیا کا سب سے بڑا فارمیسی ایوارڈ حاصل کرنیوالے پاکستانی ڈاکٹر

ڈاکٹر عبداللطیف شیخ کی آزادی کی 75 ویں سالگرہ پر خصوصی گفتگو

امریکن سوسائٹی آف ہیلتھ سسٹم فارماسسٹس کی جانب سے دنیا کا سب سے بڑا فارمیسی ایوارڈ “ڈونلڈ فرینکی میڈل ایوارڈ” حاصل کرنیوالے پاکستانی فارماسسٹ ڈاکٹر عبدالطیف شیخ کا کہنا ہے کہ امریکا میں میڈیکیشن ایررز کی وجہ سے ہونیوالی سالانہ اموات ڈھائی لاکھ ہیں جبکہ پاکستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ اموات 35 سے 45 ہزار ہیں، لیکن اموات کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی سطح پر ادویات کا صحیح استعمال نہ ہونے اور غلطیوں کی وجہ سے سالانہ 5 ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔

ڈاکٹر عبد الطیف شیخ پاکستان سوسائٹی آف ہیلتھ سسٹم فارماسسٹس کے بانی صدر، پہلے پاکستانی اور ایشیائی فارماسسٹس ہیں جنہیں فارمیسی کی دنیا کے سب سے بڑے ایوارڈ ‘‘ڈونلڈ فرینکی میڈل ایوارڈ’’ سے نوازا گیا ہے۔

ڈونلڈ فرینکی میڈل ایوارڈ کیا ہے؟

ڈونلڈ فرینکی میڈل ایوارڈ فارمیسی کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والے فارماسسٹس کو دیا جاتا ہے، یہ ایوارڈ معروف امریکی فارماسسٹ ڈونلڈ ای فرینکی کی خدمات کے اعتراف میں 1971ء میں جاری کیا گیا تھا۔

بنیادی طور پر یہ ایوارڈ اُن فارماسسٹس کو دیا جاتا ہے جنہوں نے عالمی سطح پر یا اپنے ملک میں فارمیسی کے شعبے میں نمایاں کام کیا ہو، شعبہ فارمیسی میں جدت متعارف کروائی ہوں، جس کا اس ملک اور انٹرنیشنل فارمیسی پریکٹسز میں میجر بریک تھرو آئے۔ امریکن سوسائٹی آف ہیلتھ سسٹم فارماسسٹس کا بورڈ آف ڈائریکٹرز دنیا بھر سے ایسے فارماسسٹس کا انتخاب کرتا ہے۔

ڈونلڈ فرینکی ایوارڈ اب تک فارمیسی کی دنیا کی 22 شخصیات کو دیا جاچکا ہے اور سال 2018ء میں یہ ایوارڈ پاکستان کے نام رہا تھا، اس سے پہلے یہ ایوارڈ زیادہ تر یورپی اور امریکی فارماسسٹس کو دیا گیا تھا۔

ڈاکٹر عبداللطیف شیخ کا تعارف

ڈاکٹر عبدالطیف شیخ نے پنجاب یونیورسٹی سے بی فارمیسی کے بعد امریکا سے فارمیسی کی تعلیم حاصل کی، وہ امریکا، مشرق وسطیٰ، مشرق بعید کے متعدد ممالک، افریقا اور افغانستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں فارمیسی کے شعبے میں خدمات انجام دے چکے ہیں، وہ عالمی ادارۂ صحت کے فارمیسی کے شعبے کے مشیر بھی رہ چکے ہیں۔

سماء ڈیجیٹل سے وطن عزیز کے 75 ویں سالگرہ کے موقع پر خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عبداللطیف شیخ کا کہنا تھا کہ انہیں یہ ایوارڈ ذاتی حیثیت میں نہیں بلکہ پاکستان کو دیا گیا ہے، لیکن وہ خود کو اس کا حقدار اس وقت تصور کریں گے جب ملک کے سرکاری اور غیر سرکاری اسپتالوں میں دنیا کے ترقی یافتہ ترین ممالک کی طرح فارمیسی کی سہولیات مہیا ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں 8 سے 25 فیصد تک ادویات غلط طریقوں سے استعمال کی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے میڈیکیشن ایررز ہوتے ہیں اور گھروں کی سطح پر استعمال ہونیوالی 2 سے 33 فیصد تک ادویات میں کوئی نہ کوئی غلطی ہوتی ہے، جان ہاپکنز یونیورسٹی کا شمار دنیا کی بہترین جامعات میں ہوتا ہے ان کی ایک تحقیق کے مطابق صرف امریکا میں میڈیکیشن ایررز کی وجہ سے ڈھائی لاکھ اموات ہوتی ہیں۔

مایہ ناز فارماسسٹ نے بتایا کہ پاکستان میں اس حوالے سے مختلف تخمینے ہیں کیونکہ ہمارے ہاں کوئی ایسا نظام موجود نہیں ہے کہ میڈیکیشن ایررز رپورٹ ہوں، لیکن تخمینہ یہی ہے کہ پاکستان میں بھی سالانہ 35 سے 45 ہزار اموات میڈیکیشن ایررز سے ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا ذاتی خیال ہے کہ غلطیوں کی وجہ سے ہونیوالی یہ اموات ایک محتاط اندازہ ہے جو اس سے کہیں زیادہ ہوں گی۔

انہوں نے بتایا کہ میڈیکیشن ایررز کی وجہ سے ادویات کی لاگت بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، عالمی سطح پر ادویات کا صحیح استعمال نہ ہونے کی وجہ سے سالانہ 5 ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔

ڈاکٹر عبداللطیف شیخ کا کہنا ہے کہ ادویات کا استعمال ایک انتہائی اہم اور وسیع موضوع ہے، ادویات کے استعمال میں غلطی کسی بھی مرحلے میں ہو سکتی ہے، جب ڈاکٹر نسخہ تحریر کر رہا ہوتا ہے اُس وقت بھی غلطی کا امکان ہوتا ہے، غلطی کسی بھی وقت ہوسکتی ہے، وہ ٹرانسپورٹیشن سے لے کر ریٹیل اسٹورز اور پھر اسٹور سے لے کر اسپتال اور گھر تک کسی بھی مقام پر ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسا سسٹم ڈیزائن ہونا چاہئے کہ کسی بھی حوالے سے ایسی غلطی ہی نہ ہو، اسپتالوں اور میڈیکل اسٹورز پر فارماسسٹس کی تعیناتی سے بہت سارے مسائل حل ہوجائیں گے، کیونکہ ڈاکٹرز اکثر اپنے نسخے ایسی لکھائی میں لکھتے ہیں جس کو نرسیں اور میڈیکل اسٹور پر تعینات غیر تربیت یافتہ عملہ سمجھ نہیں پاتا اور اندازے سے دوائیں دے دیتا ہے، جو اکثر جان لیوا ثابت ہوتی ہیں، اس کیلئے ضروری ہے کہ ڈاکٹری نسخے کمپیوٹرائزڈ کردیئے جائیں۔

ماہر ادویات کا کہنا ہے کہ اگر فارماسسٹس کو سسٹم میں شامل نہیں کریں گے تو جو مریض ادویات استعمال کرے گا اس کے بارے میں مریض کو آگاہی نہیں ہوگی، اسے یہ علم ہی نہیں ہوگا کہ ان دواؤں کے مضر اثرات بھی ہوسکتے ہیں، دنیا بھر میں فارماسسٹس سے متعلق بہت سی اسٹڈیز موجود ہیں، اگر فارماسسٹ آپ کے سسٹم کا حصہ نہیں ہے تو بیماری کا دورانیہ طویل ہوسکتا ہے، ادویات کا مالی بوجھ آپ پر زیادہ پڑتا ہے، کے مضر اثرات یا سائیڈ افیکٹس کا علاج بھی کرنا پڑتا ہے۔

ڈاکٹر عبدالطیف شیخ نے مزید کہا کہ اگر فارماسسٹس کو اپنے سسٹم سے نکال دیں تو یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ اس معاشرے میں ادویات کا استعمال احسن طریقے سے نہیں ہوسکتا کیونکہ فارماسسٹس ادویات کے بارے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، اگر آپ اُس کلیدی کردار کو نکال دیں گے تو پھر صرف دوائیں بیچی جاسکتی ہیں اُن کا درست اور بہتر استعمال نہیں ہوسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ فارماسسٹ دنیا کے کسی بھی ہیلتھ کیئر سسٹم میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں، ان کا تعلق براہ راست مریض، فزیشن اور ہیلتھ کیئر ورکرز کے ساتھ رہتا ہے، بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس ٹیم کا ممبر ہونے کی حیثیت سے اس بات کو یقینی بنائے کہ مریض جتنی بھی ادویات استعمال کرے اس کا مریضوں کو فائدہ پہنچے، مریضوں کو ادویات کے سائیڈ افیکٹس سے متعلق آگہی دے، مریض کی ریکوری جلدی ہو اور وہ صحتیاب ہوجائے۔

پاکستان

DONALD FRANKE MEDAL AWARD

DR. ABDUL LATIF SHAIKH

Tabool ads will show in this div