کراچی میں وقفے وقفے سے بارش، بلوچستان میں سیلابی صورتحال

سندھ میں متعدد اضلاع آفت زدہ قرار
<p>بشکریہ آن لائن</p>

بشکریہ آن لائن

کراچی میں گزشتہ روز سے شروع ہونے والی بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔

بہادرآباد، پی ایس سی ایچ ایس، محمد علی سوسائٹی، شارع فیصل، کارساز، نارتھ کراچی، نارتھ ناظم آباد، بورڈ آفس، لیاقت آباد، نمائش چورنگی، صدر، ایم اے جناح روڈ، آئی آئی چند ریگر روڈ، گرومندر، گولیمار، لسبیلہ، جہانگیر روڈ سمیت شہر بھر کے علاقوں میں بادل برس پڑے۔ بارش کے باعث مختلف سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں۔

ہفتہ 13 اگست کی صبح موصول اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ بارش سرجانی ٹاؤن میں 60 ملی میٹر، یونیورسٹی روڈ پر 40 جب کہ ایئر پورٹ پر 13ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

ناظم آباد میں 26.5، نارتھ کراچی میں 23.1 ملی میٹر، گلشن معمار میں 23 ملی میٹر، مسرور بیس میں 19.5، جناح ٹرمینل پر 1.8 ملی میٹر، اولڈ ایئر پورٹ پر 1.2، اورنگی ٹاؤن میں 21.6 ملی میٹر، یونیورسٹی روڈ پر 18، کیماڑی میں 7.5، سعدی ٹاؤن میں19.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

میمن گوٹھ کے مقام پر ملیرندی بپھرگئی، جس کے بعد پانی کا بڑا ریلہ علاقے میں داخل ہونے سے شاہراہ زیرآب آگئی ہے۔ ملیر ملوک ہوٹل سے میمن گوٹھ جانیوالی ٹریفک معطل ہے۔

رات کو شروع ہونے والی تیز اور ہلکی بارش کے باعث کئی سڑکوں اور گلیوں میں پانی میں جمع ہوگیا ہے۔ بارش کے باعث کئی سڑکوں پر گاڑیاں بند ہونے کے باعث رات کو شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بارش کی وجہ سے انٹرمیڈیٹ بورڈ کراچی کے تحت آج ہونے والے تمام پرچے ملتوی کردیئے گئے ہیں۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی میں بارش کا سلسلہ کل 14 اگست تک جاری رہے گا۔

سندھ کے متعدد اضلاع آفت زدہ قرار

سندھ حکومت نے بارشوں سے متاثرہ 9 اضلاع کو آفت زدہ قرار دے دیا، متاثرہ اضلاع میں ٹھٹھہ، جامشورو، دادو، بدین، قمبر شھداد کوٹ شامل ہیں، نوشہرو فیروز، خیرپور، مٹیاری اور سانگھڑ کو بھی آفت زدہ قرار دیے جانے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

بارش اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج، ایف سی اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

بلوچستان

دوسری جانب بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی بارشوں نے مزید سیلابی صورت حال پیدا کردی۔ قلعہ عبداللّٰہ میں پانی کے دباؤ سے تین ڈیم ٹوٹ گئے اور سیلابی ریلے مختلف علاقوں میں داخل ہوگئے جس کے باعث لوگ پھنس گئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق پیر علی زئی گاؤں میں 25 بچوں کو سیلابی ریلے سے نکال لیا گیا جبکہ سیلاب سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔

مون سون کے پے درپے اسپیل، موسلا دھار بارشوں نے سندھ اور بلوچستان میں تباہی مچادی، تھر پارکر اور بدین میں آسمانی بجلی گرنے سے 2 خواتین سمیت 3 افراد جاں بحق، قلعہ عبداللہ میں ڈیم ٹوٹ گیا، سیلابی ریلے میں ٹریکٹر ٹرالی اور بجلی کے درجنوں پول بہہ گئے جب کہ 2 افراد چل بسے، 20 لاپتا ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔

شدید بارشوں میں تباہی سے بچنے اور آگاہی کے لیے مساجد میں اعلانات کر دیئے گئے ہیں جبکہ لوگ گھروں سے نکل کر پہاڑوں پر چڑھ پناہ لے لی ہے۔

بحیرہ عرب میں موجود ڈپریشن

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی بحیرہ عرب میں موجود ڈپریشن 8 گھنٹوں سے مغرب اور جنوب مغرب کی جانب بڑھ رہا ہے۔ سسٹم کے مرکز میں ہواؤں کی رفتار 45 سے 55 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ ڈپریشن کراچی کے جنوب مغرب سے 330 کلومیٹر دور ہے۔

میٹ آفس کا یہ بھی کہنا ہے کہ سسٹم ٹھٹھہ سے 370 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، جب کہ یہ اورماڑہ کے جنوب میں 290 کلومیٹر دور ہے۔ سسٹم مزید مغرب اور شمال مغرب کی جانب رہے گا۔

پاکستان کے ساحلی علاقوں کو اس سسٹم سے فی الحال کوئی خطرہ نہیں۔ محکمہ موسمیات کا مزید کہنا ہے کہ اس سسٹم کے زیر اثر آئندہ تین روز کے دوران سمندر میں شدید طغیانی رہے گی۔ سندھ کے ماہی گیر 14 اگست تک گہرے سمندر میں نہ جائیں۔ بلوچستان کے ماہی گیر بھی مزید احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ جبکہ تمام متعلقہ ادارے الرٹ رہیں۔

چینوٹ سیلاب

دریائے چناب میں سیلابی ریلا چنیوٹ کے مقام سے گزر رہا ہے۔ سیلابی ریلے نے آبادیوں کا رخ کرلیا، جہاں سیلاب کی سطح ایک لاکھ 55 ہزار سے متجاوز کر گئی ہے۔

سیلابی پانی لاہور روڈ اور جھنگ روڈ پر واقع نشیبی بستیوں میں پانی داخل ہوگیا ہے۔ جب کہ سیلابی ریلے سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں متاثر ہوئیں۔ متاثرین کی امداد کیلئے ریسکیو 1122 ، محکمہ مال، صحت، لائیو اسٹاک دیگر محکموں کے فلڈ ریلیف کیمپ قائم کردیئے گئے ہیں۔

قلعہ عبداللہ

قلعہ عبداللہ میں طوفانی بارشوں سے کے دوران پی ڈی ایم اے کی ریسکیو ٹیموں نے سیلابی ریلے سے 25 بچوں کو نکال لیا۔ ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلوں میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کا کام جاری ہے۔ متاثرہ علاقوں کے مکینوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ توبہ اچکزئی اور پہاڑی سیلابی ریلوں سے تینوں ڈیم بھر گئے تھے۔ تمام علاقوں کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

مقامی اسسٹنٹ کمشنر نے بتایا کہ لیویز کی ریسکیو ٹیمیں لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔ قلعہ عبداللّٰہ کے علاقوں حبیب زئی، میزئی اور مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ ڈی سی منیر کاکڑ کے مطابق حبیب زئی میں بڑی تعداد میں لوگ سیلابی ریلے میں پھنس گئے ہیں۔

سیداں میں ٹریکٹر ٹرالی بہہ گئی، جس میں 20 سے زائد افراد سوار تھے۔ انہوں نے کہا کہ بہہ جانے والے افراد کو ریسکیو کرنے کے لیے آپریشن جاری ہے۔ جبکہ لاجور کے علاقے میں ریلوے پٹری سیلابی ریلے میں بہہ گئی۔ جبکہ کوئٹہ اور چمن کے درمیان ٹرینوں کی آمدورفت معطل ہے۔

ڈی سی کا کہنا تھا کہ سیلاب سے اب تک 4 افراد جاں بحق ہوئے ہیں اور جنگل پیر علی زئی کے علاقے میں تین پل بہہ گئے۔

راجن پور

راجن پورمیں سیلاب آیا اور چلا بھی گیا مگر اپنے پیچھے بھوک اور افلاس کی کئی داستانیں چھوڑ گیا۔ فلڈ بندوں پر پناہ لیے متاثرہ خاندان مدد کے منتظر ہیں۔ متاثرین نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے مکان، فصلیں، جانور سب بہہ گیا، کوئی مدد نہیں ملی۔

نارروال

نارووال میں نالہ ڈیک میں طغیانی سے بہہ جانے والی ریلوئے لائن مرمت کے بعد بحال کردی گئی۔ علامہ اقبال ایکسپریس اور لاثانی ایکسپریس سیالکوٹ کیلئے روانہ کردی گئی۔

امدادی کارروائی میں 200 سے زائد مزدورں اور انجینیرز نے حصہ لیا۔ ٹریفک انسپکٹر ریلویز کے مطابق ٹرینوں کی آمدورفت معمول کے مطابق ہوگی۔

Rain and Flood

KARACHI RAIN

Monsoon Rain

Tabool ads will show in this div